The news is by your side.

امریکا میں چین کے موبائل فونز اور کیمروں پر پابندی کیوں لگی؟

واشنگٹن : امریکہ نے قومی سلامتی کے پیش نظر چین کے ٹیلی کام آلات موبائل فونز اور سی سی ٹی وی کیمروں کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق امریکا کی ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹر اتھارٹی نے چینی ٹیلی کمیونیکیشن اور ویڈیو سرویلنس آلات کے ذریعے مبینہ جاسوسی اور حفاظتی اقدام کے تحت چینی کمپنیوں ہواوے، زیڈ ٹی ای اور سرویلینس کیمرہ ساز کمپنیاں ہائک ویژن اور داہوا کی مصنوعات کے استعمال پر پابندی لگا دی۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے یہ اقدام کا مقصد بیجنگ کی ممکنہ جاسوسی کے بارے میں اٹھائے گئے خدشات اور کانگریس کی جانب سے گزشتہ برس منظور کردہ ایک قانون کے بعد کیا گیا ہے۔

اس حوالے سے امریکی ٹیلی کام ریگولیٹر فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن نے کہا ہے کہ ہواوے ٹیکنالوجیز اور زیڈ ٹی ای کارپوریشن کے تیار کردہ آلات پر پابندی ہوگی، یہ دونوں کمپنیاں پہلے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکی پابندیوں کی زد میں آچکی تھیں۔

US may ban Chinese surveillance cameras, citing security risks | Technology News | Al Jazeera

نئے قوانین کا اطلاق ہائیک ویژن اور داہوا پر بھی ہوگا جن کے تیار کردہ ویڈیو سرویلنس کیمرے پوری دنیا میں نصب ہیں لیکن ان سے رازداری کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ دو طرفہ بات چیت کے لیے استعمال ہونے والے ریڈیو بنانے والی کمپنی ہائٹیرا پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا خیال ہے کہ چینی قوانین کے تابع ان کمپنیوں کو بیجنگ کی سکیورٹی سروسز کو معلومات دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے حالانکہ ان کمپنیوں نے اس کی تردید کی ہے۔

ایف سی سی کی چیئرپرسن جیسیکا روزن ورسیل کا کہنا تھا ایف سی سی ہماری قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جارہا ہے کہ ناقابل بھروسہ مواصلاتی آلات کو ہماری سرحدوں کے اندر استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

انہوں نے مزید کہا یہ نئے قوانین امریکی عوام کو ٹیلی مواصلات سے متعلق قومی سلامتی کے خطرات سے بچانے کے لیے ہماری مسلسل کارروائیوں کا ایک اہم حصہ ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں