The news is by your side.

Advertisement

کرپشن میں ملوث سابق چینی انٹیلی جنس چیف کو عمر قید کی سزا

بیجنگ : عدالت نے چین کے سابق انٹیلی جنس چیف کو کرپشن رشوت ستانی اور کرپشن کیسز میں عمر قید کی سزا سنادی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق انٹیلی جنس چیف ’ماجیان‘ سنہ 2015 سے زیر تفتیش تھے اور کمیونسٹ پارٹی نے ماجیان کو زیر تفتیش آنے کے ایک سال بعد نکال دیا گیا تھا۔

چین کے شمال مشرقی صوبے لیاؤنگ کی عدالت کا کہنا ہے کہ سابق انٹیلی جنس چیف کے اعتراف جرم کرنے اور کرپشن الزامات ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی ہے، ماجیان عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کرسکتے۔

خیال رہے کہ چینی صدر انسداد کرپشن مہم کے تحت اب تک کئی اعلیٰ حکام کو کرپشن میں ملوث ہونے کے باعث سزائیں ہوچکی ہیں۔

سابق انٹیلی جنس چیف ’ماجیان‘ چین کے نائب وزیر برائے قومی سلامتی (اسٹیٹ سیکیورٹی) تھے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ماجیان کے کیس کا تعلق چین کے مفرور اور جلاوطن بزنس مین گؤ ونگوئی سے ہے، جس نے کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداران پر کرپشن الزامات کی پوری سیریز شائع کی تھی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سابق انٹیلی جنس چیف نے اپنے عہدے کا استعمال گؤ ونگوئی کی مدد کےلیے کیا تھا۔

واضح رہے کہ چینی صدر ژی جن پنگ نے سنہ 2012 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انسداد کرپشن مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت اب تک 10 لاکھ سے زائد افراد کو سزا دی جاچکی ہے۔

مزید پڑھیں : کرپشن اور رشوت خوری کا الزام، انٹرپول چیف کا مستعفیٰ ہونے کا اعلان

یاد رہے کہ دو ماہ قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے انٹرپول کے سربراہ مینگ ہونگ کو چین نے تفتیش کے لیے حراست میں لینے کی تصدیق کی تھی جس کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ انٹرپول کو ارسال کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں