The news is by your side.

Advertisement

یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی اس چینی طالبہ کی حقیقت جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

بیجنگ: چین نے دنیا کو حیرت میں مبتلا کرتے ہوئے اپنی پہلی ورچوئل طالبہ بنا لی ہے، اس طالبہ نے ایک یونیورسٹی میں داخلہ بھی لے لیا ہے۔

آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ چین نے آخر کار پہلی ایسی ورچوئل طالبہ تخلیق کر لی ہے، جو چین ہی میں تیار کیے گئے وسیع سطح کے مصنوعی ذہانت (AI) کے نظام سے چلتی ہے۔

جب گزشتہ دنوں ہُووا ژیبنگ نے چین کی مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ویبو پر اپنی زندگی کی پہلی پوسٹ کی، اور اس میں اس نے اعلان کیا کہ وہ شنگھوا یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں پڑھنے جا رہی ہے، تو لوگ سائنس دانوں کی اس تخلیق پر حیران رہ گئے۔

ویبو پر اپنے پہلے ولاگ میں ژیبنگ نے کہا کہ جب سے میں ’پیدا‘ ہوئی ہوں، تب سے میں ادب اور فن کی رسیا ہوں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ویڈیو میں ہُووا ژیبنگ کی آمد، آواز اور پس پردہ موسیقی، حتیٰ کہ اس کی بنائی پینٹنگز بھی، سب کچھ ایک ریکارڈ بریکنگ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ماڈلنگ سسٹم Wudao 2.0 پر تیار کیا گیا تھا۔

اس سسٹم کی نقاب کشانی یکم جون کو بیجنگ اکیڈمی آف آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2021 میں کی گئی تھی۔ ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر اور ہُووا ژیبنگ کے تخلیق کاروں میں سے ایک تانگ جی نے میڈیا کو بتایا کہ یہ سسٹم گفتگو کی نقل کرنے، نظمیں لکھنے اور تصاویر کو سمجھنے کے لیے 17 کھرب 50 ارب پیرامیٹرز استعمال کرتا ہے۔ اور اس نے گوگل سوئچ ٹرانسفر کے ترتیب دیے 16 کھرب پیرامیٹرز کا ریکارڈ توڑا تھا۔

اس مصنوعی طالبہ سے متعلق اساتذہ کا کہنا ہے کہ ایک سال میں اس کا شعور 12 سالہ بچے جتنا ہو جائے گا، اس تمام اختراع کی پشت پر جدید ترین الگورتھم اور سافٹ ویئر ہے جو اسے مسلسل سیکھنے میں مدد دیتے ہیں، واضح رہے کہ اس سے قبل چینی ماہرین ڈیجیٹل یوٹیوبر اور خبرنامہ پڑھنے والے ورچول نیوز کاسٹر بھی بنا چکے ہیں۔

ہُووا ژیبنگ نے منگل کو اپنی پہلی کلاس لی ہے، اور اس کا پہلا سیمسٹر ڈیٹا ٹیکنالوجی پر مشتمل ہے، اسے پڑھانے کے لیے ماہر پروفیسر کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ چین کا خیال ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجینس ملک کی معاشی ترقی اور صنعتی فروغ کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا یہ طالبہ انسان کی طرح بنتی جائے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں