چین کا خلائی میدان میں انقلابی قدم -
The news is by your side.

Advertisement

چین کا خلائی میدان میں انقلابی قدم

بیجنگ: 2022 میں خلا میں تعمیر ہونے والے خلائی اسٹیشن کے حوالے سے چین نے تیاری مکمل کرلی،مقامی اخبار کاکہنا ہے کہ جنوب چین سے مارچ کے مہینے میں سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے راکٹ خلا میں بھیجا جائے گا.

غیر ملکی میڈیا کے مطابق چین رواں سال اپریل میں اپنا پہلا کارگو خلائی جہاز لانچ کرئے گا،ماہرین کی رائے کے مطابق 2022 میں خلا میں قیام ہونے والے خلائی اسٹیشن کی جانب یہ پہلا قدم ہے.

چین کے صدر ژی جن پنگ کا کہنا ہے کہ ریاست کی سلامتی اور دفاعی اعتبار سے مستحکم کرنے کے لئے یہ اقدام کرنے کی بہت ضرورت تھی، انہوں نے خلائی پروگرام کو مزید آگے بڑھانے کو ترجیح دی اور اس حوالے سے ہدایات جاری کیں.

مقامی اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوب چین سے مارچ کے مہینے میں سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے راکٹ خلا میں بھیجا جائے گا.

واضح رہے کہ چین طویل عرصے سےخلائی اسٹیشن کے قیام کی کوششوں میں مصروف ہے، اس کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے مشن کو پورا کر لے.

اس حوالے سے اُس نے گذشتہ سال اکتوبر میں دو خلا باز بھی بھیجے تھے، وہاں انہوں نے خلائی لیبارٹری کے قیام کی منصوبہ سازی کی تھی.

اخبار میں یہ بھی درج ہے کہ خلائی جہاز میں سامان کے 6 ٹن وزن تک کا جبکہ 2 ٹن تک کا ایندھن لے کرجایا سکتا ہے اور یہ جہاز تین ماہ تک بغیر پائلٹ پرواز کرسکتے ہیں.

چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کے بعد امریکہ اور روس جیسے ترقی یافتہ ممالک پیچھے رہ جائیں گے.

یاد رہے کہ 2013 میں چین سے تعلق رکھنے والا خلاباز چاند پر جانے کے لئے خلائی سفرپرگیا تھا، تاہم اسے بہت سی تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع  نے چین کی بڑھتی ہوئی خلائی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین کا یہ اقدام دوسرے ممالک کی خلائی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں