The news is by your side.

Advertisement

چین نےایشیا میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے گراں قدرکام کیا‘ چینی صدر

بیجنگ: چین کے صدر شی جنگ پنگ کا کہنا ہے کہ چینی عوام نے ملکی ترقی کے لیے غیرمعمولی خدمات سرانجام دیں جس کے باعث چین کا جی ڈی پی 9.5 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین کے صدر شی جنگ پنگ نے باؤ فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین عالمی برادری کے ساتھ مل کرترقی کےعمل کو تیز کررہا ہے، ہم زمینی حقائق اور گلوبل وژن کو ایک ساتھ لےکرچل رہے ہیں۔

چینی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی معیشت میں چین کلیدی کردار ادا کرچکا ہے جبکہ تنہائیوں کو ختم کرکے سب کو ایک ساتھ لانا ہمارا مشن ہے، ایشیا کا مستقبل کیا ہے؟ اس کا تعین ہمیں کرنا ہے۔

شی جنگ پنگ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 40 سال کے دوران چین نےغیرمعمولی ترقی کی ہے جبکہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے،چین نے ایشیا میں معاشی بحران کے خاتمے کے لیے گراں قدرکام کیا۔

چین کے صدر شی جنگ پنگ کا باؤ فورم کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا بہت سے ممالک میں لوگ غربت، بھوک اورامراض کا شکارہیں، دنیا کے بہت سے خطوں میں انسانیت کوغیریقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

شی جنگ پنگ کا کہنا تھا کہ امن، خوشحالی کے دورمیں سرد جنگ ذہنیت کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے سامنے بہت سارے مسائل اور بے شمار رکاوٹیں ہیں۔

خیال رہے کہ باؤ فورم ایک غیرسرکاری اور غیرمنافع بخش بین الاقوامی تنظیم ہے جس کا باضابطہ طور پرقیام 2001ء میں عمل میں لایا گیا تھا جس کا مقصد ایشیا، دنیا کے دیگر ممالک اور ایشیا کے مابین گہرے اقتصادی تعاون، روابط اور تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

باؤ فورم حکومتی سربراہان، کاروباری برادی، ماہرین اور اسکالرز کو معیشت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور توانائی کت شعبوں میں تعاون کے لیے اعلیٰ سطحی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیاپر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں