The news is by your side.

Advertisement

عالمی پابندیوں کے باوجود چین کا روس کے لئے بڑا اقدام

بیجنگ: چین نے روس پر عائد عالمی پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھاری تعداد میں کوئلہ درآمد کرلیا ہے۔

چین کے قومی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے بتایا گیا کہ روس سے کوکنگ کول کی درآمدات مارچ میں بڑھ کر 1.4 ملین ٹن ہو گئیں، جو کہ گزشتہ سال اسی مہینے میں 590,000 ٹن اور فروری میں 1.1 ملین ٹن تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر چین نے روسی اسٹیل بنانے والے کوئلے کی خریداری کو دوگنا کر دیا جبکہ بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے تھرمل کوئلے کی درآمدات میں سرد موسم کی وجہ سے طلب میں کمی آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: نیدرلینڈز کا بھاری ہتھیاروں سے یوکرین کی مدد کا اعلان

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین روس کا سب سے بڑا کوئلہ خریدار ہے، جس نے پچھلے سال روس کے مشرق بعید سے ریل اور سمندر کے ذریعے 7.4 بلین ڈالر مالیت کی پچاس ملین ٹن سے زیادہ کی درآمدات کیں، چین کی کل درآمدات کا تقریباً پندرہ فیصد روس ہے اور انڈونیشیا کے بعد اس کا دوسرا سب سے بڑا سپلائر ہے۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ روسی کوئلے کی قیمتوں میں پچھلے سال میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن وہ اب بھی دوسرے سپلائرز، جیسے انڈونیشیا اور منگولیا سے بہت کم ہیں۔

ادھر چین کا مقصد ملکی کوئلے کی پیداوار میں زبردست اضافہ کرنا ہے جس کی وجہ ملک کی کانوں سے کم معیار کا کوئلہ نکلنا ہے جو اسٹیل ملز کے لیے موزوں نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں