The news is by your side.

چین میں گرمی، فیکٹریاں 6 دن کے لیے بند

بیجنگ: چین میں شدید گرمی کا 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، ایک صوبے میں گرمی کے باعث فیکٹریاں بھی 6 دن کے لیے بند کر دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق چین کے 10 سے زیادہ صوبوں میں درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا ہے، اور ساٹھ سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے بعد صوبہ سیچوان میں تمام فیکٹریوں کو چھ دن تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں تاکہ بجلی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ سیچوان صوبہ سیمی کنڈکٹر اور سولر پینل کی صنعتوں کے لیے مینوفیکچرنگ کا ایک اہم مقام ہے، اور بجلی کی محدود فراہمی کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرانکس کمپنیاں، بشمول Apple (AAPL) سپلائر Foxconn اور Intel (INTC) کی فیکٹریاں متاثر ہوں گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا کہ یہ صوبہ چین کے لیتھیم کان کنی کا مرکز بھی ہے جو الیکٹرک کار بیٹریوں کا ایک اہم جزو ہے، اس کے بند ہونے سے خام مال کی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

شدید گرمی کی وجہ سے کچھ سیاحتی مقامات کو بھی بند کر دیا گیا ہے، یاد رہے کہ چینی محکمہ موسمیات نے 14 اگست کو شدید گرمی کے حوالے سے ریڈ الرٹ بھی جاری کیا تھا۔

خیال رہے کہ چین چھ دہائیوں میں اپنی شدید ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، درجنوں شہروں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس (104 ڈگری فارن ہائیٹ) سے تجاوز کر گیا ہے، شدید گرمی کی وجہ سے دفاتر اور گھروں میں ایئر کنڈیشن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے پاور گرڈ پر دباؤ پڑ رہا ہے۔

خشک سالی نے دریا کے پانی کی سطح کو بھی گرا دیا ہے، جس سے ہائیڈرو پاور پلانٹس میں پیدا ہونے والی بجلی کی مقدار کم ہو گئی ہے۔

اب 84 ملین آبادی والے چین کے سب سے بڑے صوبوں میں سے ایک سیچوان نے صوبے کے 21 شہروں میں سے 19 کو کہا ہے کہ وہ پیر سے ہفتہ تک تمام فیکٹریوں میں پیداوار معطل کر دیں۔ یہ فیصلہ رہائشی آبادی کے لیے درکار بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کیا گیا۔ صوبے کے اعلیٰ حکام نے پیر کو خبردار کیا تھا کہ سیچوان کو اس وقت پاور سپلائی کی انتہائی شدید صورت حال کا سامنا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں