The news is by your side.

Advertisement

اڑن طشتری نما خطرناک ہیلی کاپٹر تیار

بیجنگ : عجیب و غریب ہیلی کاپٹر کو ”سپر گریٹ وائٹ شارک“ کا نام دیا گیا ہے، جسے 2020ءمیں پہلی آزمائشی پرواز کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق شمال مشرقی چین کے شہر تیانجن میں ختم ہونے والی ہیلی کاپٹروں کی پانچویں سالانہ نمائش میں چینی دفاعی اداروں کی جانب سے ایک جدید ترین پروٹوٹائپ ہیلی کاپٹر کے ماڈل کی بھی نمائش کی گئی جو اگلے سال 2020ء میں پہلی آزمائشی پرواز کرے گا۔

اس عجیب و غریب ہیلی کاپٹر کو ”سپر گریٹ وائٹ شارک“ کا نام دیا گیا ہے جو ایک تیز رفتار اور خطرناک شارک کے مشہور نام سے ماخوذ ہے۔

انگریزی زبان میں چینی حکومت کی نمائندہ ویب سائٹ ”گلوبل ٹائمز“ پر اس بارے میں شائع شدہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ سپر گریٹ وائٹ شارک مکمل طور پر گول نہیں بلکہ بیضوی یعنی انڈے جیسا ہیلی کاپٹر ہے جس کی لمبائی 7.6 میٹر اور چوڑائی 2.85 میٹر ہے۔

اس کے بالکل درمیان میں ایک کاک پٹ ہے جس میں دو پائلٹوں کے بیٹھنے کی جگہ بھی ہے۔ یہ عموداً یعنی بالکل سیدھا اڑان بھرنے اور زمین پر اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے لیے اس میں ایک مرکزی روٹر سسٹم نصب ہے جس کا قطر 4.9 میٹر ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا تھا کہ تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کے لیے اس میں دو اضافی ٹربو جیٹ انجن بھی لگائے گئے ہیں جن کی مدد سے یہ 650 کلومیٹر فی گھنٹہ جیسی زبردست رفتار سے سفر کرسکتا ہے،اسے فضا سے زمین اور فضا سے سمندر میں مار کرنے والے میزائیلوں سمیت کئی طرح کے جدید اور خطرناک ہتھیاروں سے بھی لیس کیا جاسکتا ہے جن میں مشین گنیں بھی شامل ہیں۔

چینی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اڑن طشتری جیسا دکھائی دینے والا یہ ہیلی کاپٹر اپنی صلاحیتوں میں دنیا کے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹروں کے ہم پلہ ہے۔ یہ ’اسٹیلتھ‘ یعنی ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہنے کی اضافی خاصیت بھی رکھتا ہے جو کسی بھی عسکری طیارے یا ہیلی کاپٹر کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔

اڑن طشتری جیسا یہ ہیلی کاپٹر 16.5 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے اوپر اٹھتے ہوئے 6,000 میٹر کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے جبکہ ٹیک آف کے وقت یہ زیادہ سے زیادہ 6,000 کلوگرام تک وزنی ہوسکتا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں