The news is by your side.

Advertisement

پاک چین قیادت کا وژن اور سوچ یکساں ہے: چینی سفیر

اسلام آباد: چینی سفیر یاؤ جنگ کا کہنا تھا کہ سماجی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور ثقافتی ترقی کے لیے چین اور پاکستان یکجا ہیں۔ پاک چین قیادت کا وژن اور سوچ یکساں ہے۔ دونوں ممالک پالیسی سطح پر باہمی اشتراک اور تعاون سے بڑھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چینی سفیر یاؤ جنگ نے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاک چین اقتصادی تعاون میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

چینی سفیر کا کہنا تھا کہ سی پیک سے متعلق مختلف آرا آرہی ہیں جن کا جواب ضروری ہے، چینی حکومت وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کی منتظر ہے۔ چین معاشی اور اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان کا خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت اور افغانستان کی طرف امن کے لیے ہاتھ بڑھایا، پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے ہاتھ بڑھانا قابل ستائش ہے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے ساتھ دفاعی اور ثقافتی تعلقات بڑھانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کو گورننس بہتر کرنے کے لیے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔ ہمیں اندازہ ہے پاکستان کو معاشی چیلجز کا سامنا ہے۔ پاکستان کو اپنی برآمدات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے فیصلہ کیا ہے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھائیں گے۔ سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستانی مصنوعات کی خریداری بڑھائیں گے۔ سی پیک کے ذریعے چین نے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔

چینی سفیر نے کہا کہ چین کو پتہ ہے پاکستانی قوم محنتی اور باصلاحیت ہے، چین خطے میں امن اور بہترین ہمسائیگی کے وژن میں پاکستان کے ساتھ ہے۔ پاک چین تعلقات کا دائرہ کار انتہائی وسیع ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سماجی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی اور ثقافتی ترقی کے لیے یکجا ہیں۔ پاک چین قیادت کا وژن اور سوچ یکساں ہے۔ دونوں ممالک پالیسی سطح پر باہمی اشتراک اور تعاون سے بڑھیں گے۔

چینی سفیر نے مزید بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان شنگھائی کانفرنس میں مہمان خصوصی ہوں گے، ابھرتا ہوا پاکستان چین اور بین الاقوامی دنیا کے لیے اہم ہے۔ چین پاکستان کو دو طرفہ اور کثیر الجہتی شعبوں میں تعاون کرے گا۔ ’تکنیکی، معاشی اور صنعتی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون کریں گے، چین کی بڑی معاشی و تجارتی منڈی پاکستان کے لیے کلیدی فائدہ پہنچا سکتی ہے‘۔

سفیر نے کہا کہ تاثر درست نہیں کہ چینی کمپنیاں سی پیک سے فائدہ اٹھا رہی ہیں، سی پیک پر معلومات کی فراہمی کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ سی پیک پر پاکستان اور پاکستانیوں کے تمام خدشات کا ازالہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک ایک سڑک، ایک راستہ کا اہم منصوبہ ہے۔ سی پیک کے 22 منصوبوں پر 19 ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی تیار کنندہ صنعت اور برآمدات کو بہترین بنانا چاہتے ہیں۔ دنیا کی کچھ طاقتیں چین کو ابھرتا ہوا خوشحال ملک نہیں دیکھنا چاہتیں، کچھ قوتوں کو پاکستان چین تعاون، تعلقات اور دوستی کھٹکتی ہے۔

سفیر کا کہنا تھا کہ پاک چین علاقائی تعاون و ترقی کے لیے یکساں طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان خطے میں انتہائی تذویراتی محل وقوع میں موجود ہے۔ میڈیا علاقائی تعمیر و ترقی کے وژن کو آگے بڑھانے میں کردار ادا کر سکتا ہے۔

سی پیک کے چیف مشن نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کے 22 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت 19 ارب ڈالرز کے منصوبے جاری ہیں۔ منصوبوں میں سے 10 مکمل ہوگئے ہیں، 12 پر کام جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے کے ایچ فیز تھری پر کام شروع کیا جا رہا ہے۔ سکھر ملتان موٹر وے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ گوادر سمارٹ سٹی ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے رواں سال کے آخر میں مکمل ہوگا۔

چین کے نائب سفیر زاؤلی جیان نے سی پیک منصوبے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی پیک منصوبوں پر 14 فیصد سود کی خبریں جھوٹ ہیں۔ قراقرم ہائی وے فیز دوم، کراچی لاہور موٹر وے کے لیے قرض دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اورنج لائن اور آپٹیکل فائبر پر آسان شرائط پر قرض دیا گیا۔ پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا قرض آسان شرائط پر دیا گیا۔ پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 95 ارب ڈالر ہے۔ چین کا قرض پاکستان پر واجب الادا کل قرض کا 6.3 فیصد ہے۔ پاکستان کو تعمیری دورانیے میں قرض یا سود کی ادائیگی نہیں کرنی۔ پاکستان کو صرف 2 فیصد سود ادا کرنا ہے۔

نائب سفیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے قرض کی واپسی کا وقت 15 سے 20 سال ہے۔ پاکستان 2020 سے 2021 میں 300 سے 400 ملین ڈالر قرض واپس کرے گا۔ چین نے 19 ارب ڈالر میں سے پاکستان میں 13 ارب ڈالر سرمایہ کاری کی۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبوں سے پاکستان کی ترقی کی شرح 5.79 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔ سی پیک کے 22 منصوبوں میں 75 ہزار براہ راست روزگار میسر آیا۔ سی پیک سے 12 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

چینی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ سی پیک سے 2030 تک مزید 7 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، پاکستان کی 2022 تک توانائی کی ضروریات پوری ہوسکیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں