The news is by your side.

Advertisement

چینی قوم کو سالِ نو مبارک ہو

بیجنگ: چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سالِ نوکا جشن منایا جارہا ہے‘  اس سال کو ’کتے کا سال‘ قرار دیا گیا ہے۔تقریبات لگ بھگ دو ہفتے تک جاری رہیں گی۔ اس موقع پر چینی قوم اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتی ہے اور وہاں سالانہ دعوتوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق چین میں قمری تاریخ سے شروع ہونے والے سالِ نو کی تقریبات کا آغاز ہوچکا ہے‘ اس سال یہ 16 فروری سے شروع ہورہا ہے‘ عمومی طور پر اس کا آغاز 21 جنوری سے 20 فروری کے درمیان کسی دن ہوتا ہے۔ اس سال کو قدیم چینی روایات کے اعتبار سے ’کتے کا سال‘ قراردیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں موجود چینی اس موقع پر آتش بازی اور روشنیوں کا اہتمام کرتے ہیں‘ گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں اور شیروں کا روایتی رقص بھی منعقد کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر چینی اپنے گھروں کی مکمل صفائی کرتے ہیں‘ ان کا عقیدہ ہے کہ ایسا کرنےسے ’بدقسمتی‘ کو ان کے گھر میں جگہ نہیں ملتی۔

چینی خاندان اس موقع پر سالانہ دعوت کا بھی اہتمام کرتے ہیں اور اس کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کیا جاتا ہے جہاں سال میں ایک مرتبہ سب مل کر بیٹھتے ہیں اور اپنے رشتوں کی تجدید کرتے ہیں۔ اس اہم تہوار پر بچوں کو نقد رقم (عیدی) بطور تحفہ دی جاتی ہے‘ چین کے بچے اب تحفہ قبول کرنے کے لیے ڈیجیٹل موبائل ایپ کا بھی استعمال کررہے ہیں۔

نئےچینی سال کےآمدکی تقریبات کے سلسلے میں چین کے علاوہ تھائی لینڈ ‘ تائیوان اور جاپان میں بھی تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے ۔تھائی لینڈکےمحکمہ سیاحت کے حکام پرامید ہیں کہ اس سال چین سےتین لاکھ سیاح آئیں گے اس جشن میں شرکت کے لیے تھائی لینڈ آئیں گے یعنی اس سال اٹھارہ فیصد زائدچینی سیاحوں کی آمد متوقع ہے۔ تھائی لینڈکے محکمہ سیاحت کو اس موقع پر ڈھائی ارب ڈالر سےزائد کی آمدنی ہوگی۔

چینی ہرسال کو کسی جانور سے منسوب کرتے ہیں‘ اس سال کو ’کتے کا سال ‘ قرار دیا گیا ہے۔چینیِ سال نو یا آمد بہار کا تہوار تائیوانی تہذیب کے تہواروں میں سے سب سے اہم تصور کیا جاتا ہے، اس لیے اسے چین سے باہر رہنے والے لوگ تائیوانی سال نو بھی کہتے ہیں۔ مشرقی ایشیائی ممالک میں منایا جانے والا یہ تہوار چینی کیلنڈر کے پہلے قمری مہینے کی پہلی تاریخ سے شروع ہوتا ہے اور پندرہ تاریخ کو ختم ہوتا ہے۔

یہ تہوار جہاں چین میں روایتی جوش و خروش اور تقاریب کے انعقاد سے منایا جاتا اسی طرح چین سے باہر رہنے والے چینی بھی اپنے رہائشی ممالک میں یہ تہوار مناتے ہیں۔ اس کے علاوہ تہوار اور اس سے متعلقہ تقاریب کے اثرات چین کے دیگر ہمسایہ ممالک تھائی لینڈ ، کوریا، جاپان، نیپال، بھوٹان، ویت نام، فلپائن، سنگاپور، ملائیشیا، انڈونیشیا کی روایتی تقاریب پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

قدیم چینی روایات کے مطابق جیڈ نامی شہنشاہ جو کہ سب سے قدیم بادشاہ اور ہر قسم کی طاقتوں کا منبع ہے ‘ اس نے تمام جانوروں کو ایک دوسرے سے ریس لگانے کا حکم دیا اور دوڑ میں سب سے آگے رہنے والے بارہ جانوروں کے نام پر سال کے بارہ مہینوں کے نام رکھے اور ہر نئے چینی سال کو انہی میں سے کسی جانور سے موسوم کیا جاتا ہے۔ قدیم روایات میں جیڈ شہنشاہ کو کائنات کا پردادا بھی تصور کیا جاتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں