کیا چینی صدر دنیا کے طاقتور ترین شخص بننے والے ہیں؟ بھارتی اور امریکا پریشان Xi Jinping
The news is by your side.

Advertisement

کیا چینی صدر دنیا کے طاقتور ترین شخص بننے والے ہیں؟

صدر شی جن پنگ کا شمار چینی تاریخ کے مقبول اور طاقتور ترین رہنماﺅں میں ہوتا ہے ،مگر اب ان کی اثر پذیری میں مزید اضافہ متوقع ہے یوں لگتا ہے کہ آنے والی دہائی میں بھی وہ برسر اقتدار رہیں گے۔

تفصیلات کے مطابق صدر شی جن پنگ ، جنھیں انقلاب چین کے بانی ماﺅزے تنگ کے بعد بااثر ترین لیڈر تصور کیا جاتا ہے ، جلد مزید سیاسی قوت حاصل کرلیں گے۔ چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی نے آئین میں اس شق کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے، جس کے تحت ایک شخص مسلسل دو بار ہی صدر منتخب ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر شی جن پنگ 2023 تک عہدے پر برا جمان ہیں۔ اگر یہ تجویز منظور کر لی گئی، تو ان کا اقتدار 2030 تک محیط ہوسکتا ہے۔

موجودہ چینی آئین کے تحت کوئی صدر یا نائب صدر مسلسل دو بار پانچ پانچ برس کے لیے یہ عہدہ نہیں سنبھال سکتا، البتہ پارٹی کی جانب سے ووٹنگ کی ذریعے اس شق کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس فیصلے سے موجودہ چینی صدر کو اپنے طویل المدت منصوبوں کی تکمیل اور اپنے ارادوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وقت اور طاقت مل جائیں گے۔


چینی صدر شی جن پنگ کا برطانیہ پہنچنے پر شاندار استقبال


واضح رہے کہ صدر شی جن پنگ کے دور صدارت میں توسیع کی خبریں کافی عرصے سے گردش میں تھی۔ اس ضمن میں پارٹی کی جانب سے ماحول بھی تیار کیا گیا۔ گذشتہ برس کے اواخر میں معنقدہ ایک اہم ترین میٹنگ میں پارٹی نے اپنے طریقے کار کے برعکس ان کے جانشین کا اعلان نہیں کیا تھا۔

1953 میں پیدا ہونے والے شی جن پنگ 1974 میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے، 2013 میں وہ اس کے صدر بن گئے تھے۔ منصب صدارت سنبھالنے کے بعد انھوں نے اقتصادی اصلاحات متعارف کرائیں اورکرپشن کے خلاف مہم شروع کی۔


بھارت دراندازی سے باز رہے، چین اپنے دفاع سے خوب واقف ہے، چینی صدر


چین کے حریف بالخصوص امریکا کی چین میں ہونے والی اس متوقع آئینی ترمیم پر گہری نظر ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ امریکا کے ساتھ ساتھ بھارت کے بھی پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں