چینوٹ(3 فروری 2026): چنیوٹ میں پولیس نے 15 سال پہلے قتل ہونے والے شخص کو بطور ملزم نامزد کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چینوٹ تھانہ صدر پولیس کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کا ایک ایسا انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے قانون کے رکھوالوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
چینوٹ پولیس نے ایک ایسے شخص کو اقدامِ قتل کے مقدمے میں نامزد کر دیا ہے جو 15 سال قبل اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔تھانہ صدر پولیس نے بغیر کسی تصدیق کے 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق یاسین نامی شخص (جو 15 سال پہلے قتل ہو چکا ہے) کو نہ صرف زندہ بتایا گیا بلکہ اسے وقوعہ میں کلہاڑی سے تشدد کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔
حالیہ جھگڑے میں 3 افراد زخمی ہوئے تھے، مقدمےکے مطابق مقتول یاسین ہاتھ میں کلہاڑی لے کر تشدد کرتا رہا جس کی بنیاد پر پولیس نے قانونی کارروائی کرتے ہوئے ‘مردہ’ یاسین کو بھی حملہ آور قرار دے دیا۔
عوامی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس نے کیس کی فائل تیار کرتے وقت بنیادی حقائق کو بھی چیک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مقدمہ درج کرنے میں یا تو شدید بدنیتی شامل ہے یا پھر محکمہ انتہائی نااہلی کا شکار ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


