The news is by your side.

Advertisement

سرحد پار سے دہشت گرد حملے، پاکستان کا افغان ناظم الامور سےاحتجاج

اسلام آباد: پاکستان نے سرحد پار سے کئے گئے دہشت گردانہ حملے پر افغان ناظم الامور سے احتجاج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ اشتعال انگیزی انتہائی تشویشناک ، باہمی تعاون کی روح کے خلاف ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان سرزمین سے 14 اپریل کو چترال میں پاکستانی چوکیوں پربلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ کی گئی، فائرنگ وقفے وقفے سے پانچ سے6 گھنٹے تک جاری رہی اس دوران افغانستان سے توپ کے 35 گولے فائر کیےگئے۔

سرحد پار سے دہشت گردوں کےحملے پر پاکستان نے افغان ناظم الامور سے احتجاج کیا اور کہا کہ افغان بارڈر سیکیورٹی فورسز کی طرف سے اشتعال انگیزی بڑھ رہی ہے، بارہا درخواستوں کے باوجود اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہورہاہے، افغان اشتعال انگیزی انتہائی تشویشناک اور باہمی تعاون کی روح کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں فوجی قافلے پر حملہ، 7 جوان شہید، 4 دہشتگرد ہلاک

پاکستان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان سرحد پار فائرنگ کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ فائرنگ کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

افغان ناظم الامور سے احتجاج میں پاکستان نے افغان حکومت سرحدی علاقے کو محفوظ ،رابطوں کو مؤثر بنائے کا بھی مطالبہ کیا۔

دوسری جانب شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں سات جوان شہید ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق دہشت گردوں نے فوجی قافلے پر حملہ گزشتہ روز ایشام کے علاقے میں کیا، سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔

قبل ازیں 28 مارچ کو شمالی وزیرستان کے ضلع جھلر فورٹ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں