The news is by your side.

Advertisement

چترال میں سرکاری بنک کھنڈر میں تبدیل

چترال: سرکاری بنک کی مرکزی برانچ کی مسمار شدہ عمارت چترال کی خوبصورتی پر بد نما داغ لگا رہی ہے ‘ بینک کا عملہ کرائے کی عمارت میں کام کرنے پر مجبور ہے۔

تفصیلات کے مطابق چترال میں سرکاری بنک کی عمارت کو سنہ2012 میں بائی پاس روڈ کیلئے مسمار کیا گیا تھا تاہم ا س کے بعد اسے ایسے ہی چھوڑدیا گیا جس کے سبب چترال کی حسین وادی کا حسن گہنا رہا ہے اور یہ تباہ حال متروکہ عمارت علاقے کی خوبصورتی پر نہایت بد نما داغ ہے۔

بنک کی ذاتی عمارت ٹوٹ جانے کے بعد عملہ کرائے کی ایک عمارت میں کام کررہا ہے‘ جہاں کسٹمرز کا کہنا ہے کہ نہ تویہاں بیٹھنے کی جگہہ ہے اورنہ ہی کھڑے ہونے کی ‘ بلکہ بنک کا عملہ بھی کافی مشکلات سے دوچار ہے۔

بنک کے ایک کسٹمر جو کہ سرکاری ملازم ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ انہیں عید کے موقع پر بھی بروقت نہ تو تنخواہ مل سکی اور نہ ہی نئے
کرنسی نوٹ ملے جس کا سبب بینک انتظامیہ کیش کی قلت قرار دے رہی ہے۔

اس سلسلے میں جب سرکاری بینک کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کو پہلے سٹیٹ بنک پشاور سے جہاز کے ذریعے کیش آتا تھا جس میں چھوٹے اور نئے نوٹ بھی ہوا کرتے تھے مگر پچھلے دو سالوں سے یہ سلسلہ بند ہوا ہے اور ان کو اب تیمر گرہ برانچ سے کیش آتا ہے جس میں کئی مسائل ہیں‘ ایک تو وہ پرانے نوٹ بھیجتے ہیں دوسرے ان میں چھوٹے نوٹ ہوتے نہیں ہیں۔

چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان کا کہنا ہے کہ سرکاری بنک میں چھوٹے اور نئے نوٹوں کی عدم دستیابی اور کیش کی کمی کی وجہ سے کاروباری طبقہ بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے کیونکہ پورے چترال بازار میں چھوٹے نوٹ نہیں ہے ۔

سرتاج احمد خان اور چترال کے عوام مطالبہ کرتے ہیں کہبنک کی تباہ شدہ عمارت کو مکمل طور پر مسمار کرکے یہاں دکانیں تعمیر کی جائے یا کرائے پر دی جائے اور بنک کے لئے اپنا عمارت جلد سے جلد تعمیر کی جائے اور مین برانچ میں کیش کی تعداد دگنی کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں پرانے طریقے سے سٹیٹ بنک سے براہ راست چھوٹے اور نئے نوٹ کی ترسیل یقینی بنائی جائے تاکہ اس پسماندہ ضلع کے عوام کی مشکلات میں کمی آسکے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال
پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں