The news is by your side.

Advertisement

چترال: صدیوں پرانے فیسٹیول کا بڑے پیمانے پر انعقاد

چترال: پاکستان کے سرسبز و شاداب جنت نظیر علاقے میں صدیوں سے سجائے جانے والے قاقلشٹ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا جو تین روز تک جاری رہے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن میں شرپسندوں کو شکست دینے اور اُن کے نیٹ ورک کو اکھاڑ پھینکنے کے بعد  ٹوررازم کارپوریشن  خیبرپختونخواہ اور ڈسٹرکٹ ایڈمینسٹریشن چترال کی جانب سے فیسٹیول کا انعقاد بڑے پیمانے پر کیا گیا جو تین روز یعنی 12 سے 15 اپریل تک جاری رہے گا۔

سنگلاخ پہاڑیوں کےدرمیان میں واقع میدان قاقلشٹ میں فیسٹیول کا انعقاد صدیوں سے ہرسال مئی کے مہینے میں کیا جاتا ہے،  گذشتہ کچھ سالوں سے  سیلاب، زلزلوں  یا دیگر وجوہات کی بنیاد پر سے فیسٹیول کا انعقاد بڑے پیمانے پر نہیں کیا جاسکا تھا تاہم امسال ڈسٹرکٹ ایڈمینسٹریشن کی خصوصی توجہ کے بعد فیسٹیول کو بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا۔

فیسٹیول کا افتتاح چترال سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعروں ’دُل ماما اور کورکھ ماتیر‘ نے کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے جنہوں نے قاقلشٹ کے بڑے پیمانے پر انعقاد اور انتظامات سے آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں: ثقافتی رنگوں سے مزین حسین وادی چترال میں ’’ جشن قاقلشٹ‘‘ کا انعقاد

ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد سودھر کا کہنا تھا کہ فیسٹیول کے بڑے پیمانے پر انعقاد کا مقصد سیاحت کو فروغ دینا ہے، اس ضمن میں خصوصاً سیاحوں اور دیگر شرکاء کے لیے پانی، رہائش کے ساتھ دیگر خصوصٰی انتظامات کیے گئے ہیں۔

علاوہ ازیں ملکی تاریخ میں پہلی بار فیسٹیول میں شرکت کرنے والے سیاحوں کے لیے فری کیمپنگ (رہائش) کے ساتھ لیے پیرا گلائیڈنگ، ریپرنگ، راک لائننگ، اسٹریکنگ کا انتظام بھی کیا گیا ہے تاکہ چترال میں سیاحت کے سلسلے کا دوبارہ سے آغاز ہوسکے۔

فیسٹول میں کلچر نائٹ، بون فائر، فائر ورکس جبکہ ملکی تاریخ میں پہلی بار فلڈ لائٹس میں پولو کھیلا جائے  گا، اس کے  علاوہ ہاکی، فٹبال اور کرکٹ کے مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔

قاقلشٹ کی خاص بات یہ بھی ہے کہ اس میں شرکاء کے لیے چترال کے خصوصی کھانے فروخت کے لیے پیش کیے جائیں گے جن میں اخروٹ کی روٹی، چاول کی چٹنی و دیگر شامل ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف نبرآزما پاکستانی قوم نے فیسٹیول کے انعقاد پر مسرت کا اظہار کیا اور سوشل میڈیا پر بھی صارفین ایونٹ کے انعقاد پر منتظمین کو مبارک باد پیش کر رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں