پیر, جون 8, 2026
اشتہار

چترال میں سیاحتی و طبی سہولیات سے متعلق حیران کن انکشاف

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (5 مئی 2026): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحتی و طبی سہولیات سے متعلق حیران کن انکشاف کر دیا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں چترال میں سیاحت کے فروغ، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر اہم امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے اٹھایا گیا چترال میں سیاحت سے متعلق معاملہ ایجنڈے میں شامل تھا جبکہ چیئرمین سینیٹ سے ملاقات کیلیے دلاور خان اور سینیٹر طلحہ محمود کے وقت لینے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا چترال میں یونیورسٹی اور اسپتال بنانے کا اعلان

اجلاس کے دوران آئی پی سی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد سیاحت کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اور 2022 میں پی ٹی ڈی سی کے موٹلز بھی صوبائی حکومتوں کے حوالے کیے گئے جن میں خیبر پختونخوا کو 19 سیاحتی پراپرٹیز منتقل کی گئیں۔

چترال کو ایڈونچر اور کلچرل ٹورازم کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہاں ریشون، گرم چشمہ، لاسپور، کیلاش ویلیز، شندور پاس اور چترال گول نیشنل پارک سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔

حکام کے مطابق سیاحت کے فروغ کیلیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو فعال کیا گیا ہے اور ’وزٹ چترال ویلی‘ ویب سائٹ کے ذریعے سیاحوں کو معلومات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ یونیسکو کے تعاون سے خصوصی نقشے، بروشرز اور معلوماتی مواد بھی تیار کیا گیا ہے۔ ’ریسپانسبل ٹورزم‘ مہم کے تحت سیاحوں کو مقامی ثقافت اور ماحول کے تحفظ کی ہدایت بھی کی جا رہی ہے۔

تاہم، سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحت کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی سیاحت کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

انہوں نے انٹرنیٹ، صحت، رہائش اور سڑکوں کی خراب صورتحال کو سنگین مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شندور پولو فیسٹیول اور کیلاش کلچر عالمی اہمیت کے حامل ہیں لیکن وہاں سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ چترال کے اسپتالوں میں بنیادی طبی سہولیات حتیٰ کہ آپریشنز کیلیے پانی تک دستیاب نہیں جبکہ پورے ضلع میں ڈائیلاسز مشین کی عدم دستیابی بھی تشویشناک ہے۔

سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ خستہ حال سڑکیں، تنگ راستے اور خطرناک سفر سیاحوں کیلیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں جبکہ چترال تک رسائی بھی محدود ہے اور کئی ماہ تک راستے بند رہتے ہیں۔

سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی شمالی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مری اور دیگر علاقوں کے مقابلے میں ترقی کا واضح فرق موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں، ہسپتالوں، سکولوں اور انٹرنیٹ جیسی بنیادی سہولیات کے بغیر سیاحت کے فروغ کے دعوے غیر مؤثر ہیں۔

کمیٹی نے سیاحت کے فروغ کیلیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے حکام کو طلب کرنے کی تجویز دی جبکہ صوبائی کارکردگی پر رپورٹ بھی طلب کر لی گئی۔

اجلاس میں نیشنل انٹرن شپ پروگرام اور نیشنل والنٹیئر موومنٹ پر بھی بریفنگ دی گئی۔ گن اینڈ کنٹری کلب سے متعلق امور پر حکام نے بتایا کہ ممبرشپ میں اضافے کے باعث دباؤ بڑھ رہا ہے تاہم سہولیات کو بہتر بنانے کیلیے اقدامات جاری ہیں اور کلب کی توسیع پر بھی کام ہو رہا ہے۔

کمیٹی نے چترال اور دیگر شمالی علاقوں میں سیاحت کے فروغ کیلیے فوری اور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں