چترال کی حسین وادی ’گولین‘ حکومتی توجہ کی منتظر -
The news is by your side.

Advertisement

چترال کی حسین وادی ’گولین‘ حکومتی توجہ کی منتظر

خیبرپختونخواہ کے علاقے چترال میں موجود جنت نظیر وادی ’گولین‘ میں حکومتی عدم توجہ کے باعث ٹمبر مافیا نے ہزاروں سال قدیم صنوبر کے درخت کاٹ دیے جس سے وادی کا حسن مانند پڑنے لگا۔

تفصیلات کے مطابق چترال وادی گولین میں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت حکومتی اور سرکاری حکام کی توجہ کے منتظر ہیں، ہزاروں سال پرانے جنگلات کی کٹائی سے وادی کا قدرتی حسن مانند پڑنے لگا۔

چترال شہر سے صرف 45 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی گولین کی سڑکیں حکومت کی عدم توجہ کے باعث کھنڈر کا منظر پیش کرنے لگیں  جس کی وجہ سے مقامی افراد مختصر فاصلہ دو سے ڈھائی گھنٹے میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔

وادی گولین میں پہاڑوں کے پیچھے سیکڑوں سال قبل برفانی تودے (گلیشئر) موجود ہیں جو اب موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پگھل رہے ہیں جس کا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی پہاڑوں سے آبشار اور چشمے کی صورت میں بہہ کر جنگلات کے قدرتی حسن کو مزید گہنا رہے ہیں۔

صنوبر کے درختوں میں بنا ہوا قدرتی جنگل ہزاروں سالوں سے اس وادی کی زینت کا باعث بنا ہوا ہے مگر حکام کی غفلت کی وجہ سے یہ جنگل بھی آہستہ آہستہ ناپید ہوتا جارہا ہے۔

محکمہ جنگلات کے آفیسر شوکت فیاض کا کہنا ہے کہ درختوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ یہ زمانہ قدیم سے یہاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات اب یہاں دیگر پودے لگاکر صنوبر کے اس قیمتی جنگل کی حفاظت کے لیے ارد گرد جنگلہ نصب کرے گا تاکہ صنوبر کے قیمتی درختوں کو مال مویشیوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔

قاضی محمد جنید نامی سیاح کا نمائندہ اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’میں نے کبھی بھی ایسی خوبصورت جگہ نہیں دیکھی تھی یہاں آکر معلوم ہوا کہ چترال میں اتنا خوبصورت مقام موجود ہے جہاں صنوبر کے ہزاروں سال پرانے درخت  نظر آتے ہیں‘۔

پشاور سے وادی گولین آئے طالب علم جواد حسن کا نمائندہ اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’جب ہم چترال آرہے تھے تو دشوار گزار راستے کی وجہ سے واپس جانے کا ارادہ کیا مگر جب یہاں پہنچے تو قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھ کر تروتازہ ہوگئے‘۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت وادی گولین پر اگر تھوڑی سی توجہ دے اور یہاں پہنچنے والی سڑکوں کی مرمت کردے تو پاکستان اور بیرونِ ممالک سے آنے والے سیاہ وادی کا رخ کریں گے جو مقامی افراد کی پسماندگی کو ختم کرنے اور پاکستان کے مثبت چہرے کو دنیا بھر میں اجاگر  کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وادی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں آلوکی فصل وافر مقدار میں ہیں جبکہ مقامی افراد مزے دار چپس بنانے کے حوالے سے بہت مشہور ہیں، علاوہ ازیں گولین میں سیب، اخروٹ، ناشپاتی سمیت آڑو اور دیگر پھل بھی پائے جاتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں