The news is by your side.

Advertisement

چترال کے لوگ گندا پانی پینے پر مجبور

چترال: صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں بالائی علاقے وادی شالی کے لوگ دریا کا گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ چترال کی خواتین 1 ہزار فٹ نیچے سے یہ پانی مٹکوں میں بھر کر واپس اوپر اپنے گھروں میں لے جانے پر مجبور ہیں۔

بالائی علاقے وادی شالی میں جو آرکاری روڈ پر واقع ہے اور چترال سے 50 کلومیٹر دور ہے، میں گزشتہ ماہ شدید برف باری ہوئی۔ مختلف مقامات پر برفانی تودے گرنے کی وجہ سے پینے کی پانی کی پائپ لائن کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی مقامات پر پانی جم گیا جبکہ اکثر مقامات پر پانی کی پائپ لائن موجود ہی نہیں ہے۔

چترال کے لوگ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی کارکردگی نہایت شاکی ہیں جو کروڑوں روپے تو خرچ کرتے ہیں مگر لوگوں کو سہولیات دینے سے قاصر ہیں۔

women-2

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ارباب اختیار نے حد با اثر ہیں۔ ان کے خلاف ابھی تک نہ تو نیب نے کارروائی کی اور نہ انسداد رشوت ستانی ان کے خلاف حرکت میں آیا۔

شالی گاؤں کی رہائشی زرینہ بی بی کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں اس لیے وہ دریائے آرکاری کا گندہ پانی روزانہ مٹکوں میں بھر کر، سروں پر رکھ کر چڑھائی چڑھ کر اپنے گھروں کو لے کر جاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے مکانات سڑک اور دریا سے ایک ہزار سے 1500 فٹ اونچائی پر واقع ہیں مگر وہ اس مشقت کے لیے مجبور ہیں اور اب یہ ان کا معمول بن چکا ہے۔

بی بی آمنہ بھی انہی خواتین میں سے ایک ہیں جو صبح سویرے، دوپہر اور شام کو تین بار دریائے آرکاری سے پانی بھر کر لاتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دریا کا پانی آلودہ اور گندا ہے اور اس سے ان کے بچے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں مگر وہ سب یہی پانی پینے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھیں: آبی آلودگی سے دنیا بھر کی آبادی خطرات کا شکار

یاد رہے کہ دیہی علاقوں میں ضروریات زندگی کے لیے دور دراز سے پانی بھر کر لانا معمولات زندگی میں شامل ہے اور یہ ایک ایسی جبری مشقت ہے جو خواتین کے فرائض کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

سندھ کے دیہاتوں میں کام کرنے والے سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ صرف خواتین پر لاگو ہونے والی یہ ایک ایسی لازمی مشقت ہے جو تا عمر جاری رہتی ہے۔ مرد چاہے گھر میں ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں وہ یہ کام نہیں کرتے بقول ان کے یہ ان کا کام نہیں، عورتوں کا کام ہے اور اسے ہر صورت وہی کریں گی۔

کارکنان کے مطابق بعض حاملہ عورتیں تو پانی بھرنے کے لیے جاتے ہوئے راستے میں بچے تک پیدا کرتی ہیں اور اس کی نال کاٹ کر اسے گلے میں لٹکا کر پھر سے پانی بھرنے کے سفر پر روانہ ہوجاتی ہیں۔

women-1

بی بی آمنہ کا کہنا تھا کہ وادی میں کوئی اسپتال بھی نہں ہے اور جب ان کے بچے اس آلودہ پانی پینے سے بیمار پڑتے ہیں تو ان کو چارپائی پر ڈال کر دوسرے قصبے میں یا چترال کے اسپتال لے کر جاتے ہیں۔ طویل راستے کے باعث اکثر بچے راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں۔

بی بی آمنہ سمیت چترال کے دیگر افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ کے خلاف تحقیقات کی جائے کہ ان کی چترال میں کتنی واٹر سپلائی اسکیمیں کامیاب ہوئی ہیں اور کتنی اسکیمیں جعلی یا ناکام ہیں۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پینے کے صاف پانی کے ساتھ ساتھ ان کو صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں