The news is by your side.

کلائمٹ چینج سے زمین پر نقصانات کا انوکھا مظاہرہ

دنیا بھر میں موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج اور زمین کو اس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی دینے پر بے تحاشہ کام کیا جارہا ہے تاہم ابھی بھی ماہرین اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے اور لوگوں میں زمین اور ماحول سے محبت کا شعور جگانے میں ناکام رہے ہیں۔

ایسی ہی ایک مثال بھارت میں بھی پیش کی گئی جہاں لوگوں کو نہایت انوکھے طریقے سے کلائمٹ چینج کے نقصانات کی طرف متوجہ کروایا گیا۔

بھارت کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں 120 کلو گرام چاکلیٹ سے زمین کا ماڈل بنایا گیا۔

اس کے بعد ہوٹل میں ہر چاکلیٹ ڈش کے آرڈر کو پورا کرنے کے لیے اسی ’زمین‘ سے چاکلیٹ کاٹا جانے لگا۔

نتیجتاً ہر آرڈر کے ساتھ زمین کا حجم کم ہونے لگا اور وہ غیر متوازن ہونے لگی۔

وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اس عمل کو روک سکتے ہیں اور اس کے لیے انہیں سوشل میڈیا پر اس زمین کی تصویر اور ایک ماحول دوست پیغام شیئر کرنا ہوگا۔

ہر سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ چاکلیٹ سے بنی اس زمین میں چاکلیٹ دوبارہ شامل کی جانے لگی۔

تاہم ان سوشل میڈیا پوسٹس کی تعداد، چاکلیٹ ڈشز آرڈر کرنے والے آرڈرز کی تعداد سے نہایت کم تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جلد ہی چاکلیٹ سے بنی اس زمین میں بڑے بڑے گڑھے بن گئے اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔

اس آئیڈیے کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی اس کوشش کا مقصد لوگوں کو یہ باور کروانا ہے کہ اپنی زمین کو پہنچنے والے نقصانات کے ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ہم خود انسان ہی ہیں۔

کلائمٹ چینج سے متعلق مزید مضامین پڑھیں


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں