The news is by your side.

Advertisement

کمیشن کی رپورٹ کو ہر فورم پر چیلنج کروں گا، چوہدری نثار

اسلام آباد: وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ کو پر فورم پر چیلنج کروں گا،میری ملاقات اہلسنت و الجماعت سے نہیں بلکہ دفاع پاکستان کونسل کے عہدے داروں سے ہوئی جو کالعدم جماعت نہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سول اسپتال میں کمیشن نے ایک خط لکھا تھا جس میں مجھ سے 5 سوالات پوچھے گئے تھے اور میں نے معزز کمیشن کو پانچوں کے جوابات تحریری طور پر دیئے۔

انہوں نے بتایا کہ مجھ سے اہلسنت و الجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی سے ملاقات کے متعلق پوچھا گیا تھا جب کہ میری ملاقات دفاع پاکستان کونسل سے ہوئی تھی اسی طرح جماعت اہلسنت و الجماعت یا کسی بھی جماعت کو اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت مقامی انتظامیہ دیتی ہے یہ وزیر داخلہ کی صوابدید نہیں۔چوہدری نثار نے مزید دو سوالوں کے جوابات کے بارے میں بتایا کہ نیکٹا کا اجلاس بلوانا وزیراعظم ہاؤس کی صوابدید ہے اسی طرح جن وزارتوں میں کام زیادہ ہوتا ہے ان میں اسپیشل سیکریٹری تعینات کیے جاتے ہیں اور یہ وزارتِ داخلہ کے ساتھ دیگر وزارتوں میں بھی کیے گئے ہیں،عہدے کے لیے سیاست نہیں کرتا بلکہ ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے کرتا ہوں۔

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے آنے والی رپورٹ پر چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ ہر چیز کے شواہد موجود ہیں تاہم اس کا جواب صرف عدالت میں دیا جائے گا، ججز ہمارے لیے معتبر اور قابل عزت ہیں تاہم انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ جو لوگ عدالتوں میں جواب دیں گے اُن کی بھی عزت ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا کہ سانحہ کوئٹہ پر سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے کمیشن کی رپورٹ کے حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھاؤں گا اور قوم کے سامنے جلد وہ باتیں بھی لائی جائیں گی جو کسی بھی رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں غلط ہوں تو اس کا فیصلہ قوم کرے گی، پچھلے 35 برس سے سیاست میں ہوں اور میرا مقصد وزارت یا عہدہ نہیں البتہ سیاست ہمیشہ خدمت کے لیے کی اور آئندہ بھی کرتا رہوں گا۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کوئی کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو اس کی شہریت ختم نہیں کی جاسکتی، مشرف کو بنیاد بنا کر تنقید کی جاتی ہے کہ اُسے باہر جانے دیا مگر وہ ٹرائل کورٹ کی اجازت کے بعد ہی ملک سے باہر گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی یا ڈاکٹر عاصم سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے اُن کی گرفتاری کے وقت میں لندن میں موجود تھا تاہم ڈی جی ریینجرز کو تاکید کی کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کرنا آپ کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 774 واقعات پیش آئے ، وزارتِ داخلہ کی جانب سے سندھ حکومت کو ائیرپورٹ حملے کا الرٹ قبل ازوقت جاری کیا گیا تھا اور دہشت گرد بھی اُسی دروازے سے داخل ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے وفد سے ملاقات طے تھی تاہم وہ اپنے ہمراہ اہلسنت والجماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی کو لائے جس کی بازپرس انہی سے ہونا چاہیے، فورتھ شیڈول کا قانون میں نے ہی متعارف کروایا ورنہ اس سے قبل اس قسم کا کوئی قانون نہیں تھا۔ جماعت اسلامی کا وفد مذہبی رہنماؤں کے شناختی کارڈز کو بحال کرانے کی استدعا لے کر آیا تھا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دفاع پاکستان کونسل کے تحت مختلف مذہبی جماعتوں نے اتحاد کر کے 2009 میں اس کے قیام کا اعلان کیا، اس جماعت نے 2014 تک کئی جلسے کئی تب تک کسی کو کوئی تکلیف یا مروڑ نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی کا حساب نہیں رکھتا اور جواب دیئے بغیر سکون سے بیٹھنا میری عادت نہیں ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ احمد لدھیانوی مولانا سمیع الحق کی جماعت متحدہ دینی محاذ کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں، طالبان پر پابندی عائد ہے، دفاع پاکستان کونسل اور  دینی محاذ پر کوئی پابندی نہیں ، ساری باتوں کے جواب موجود ہیں تاہم کسی شخص کی بھی تضحیک برداشت نہیں کی جائے گی۔

پریس کانفرنس کے آغاز میں انہوں نے وضاحت پیش کی کہ سانحہ کوئٹہ پر سپریم کورٹ کی رپورٹ کے حوالے سے پریس کانفرنس کی اجازت نہیں مل رہی تھی جس کے بعد وزیراعظم کو استعفیٰ دے کرصفائی دینےکی پیشکش کی تھی، جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ میرے لیے ناقابل قبول ہے اس کے باوجود آج کی پریس کانفرنس نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں