The news is by your side.

Advertisement

لوگوں کو لاپتا کرنا حکومتی پالیسی نہیں، چوہدری نثار

اسلام آباد ؛ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ لوگوں کو لاپتا کرنا حکومت کی پالیسی ہے نہ ہی ایسا برداشت کیا جاۓ گا، سلمان حیدر کی بازیابی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار ، چئرمین سینیٹ رضاربانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں لاپتا افراد کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دے رہے تھے انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حالیہ لاپتا ہونے والے چار افراد میں سے ایک کا تعلق اسلام آباد اور تین کا پنجاب سے تعلق ہے جنہیں اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا ہے اور نہ ہی اغوا کرنے والوں کا پتہ چلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفیسر سلمان حیدر کی باحفاظت واپسی کو یقینی بنایا جائے گا، یہ ہماری اولین ترجیح ہے جب کہ ایک لاپتا شخص کے موبائل فون سے گھر والوں کو پیغام موصول ہوا کہ ان کا لیپ ٹاپ گھر آنے والوں کو دے دیں جس کے بعد اگلے روز نامعلوم افراد لیپ ٹاپ لے گئے۔

وزیر داخلہ نے اس حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے پیش رفت کے بارے میں بتایا کہ خفیہ سکیورٹی اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے کیمرے ریکارڈ چیک کیا تو اسلام آباد سے ہی ایک گاڑی پیچھا کررہی تھی، جرم کے مرتکب افراد کا پیچھا کریں گے ، لاپتہ افراد کےحوالے سے چھ شواہد ملے ہیں جو قبل از وقت سامنے نہیں لائے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، کسی کے ماتھے پر نہیں لکھا کہ اس نے ہمیشہ حکومت میں رہنا ہے، اپوزیشن کا گلہ جائز نہیں، حکومت نے ساڑھے تین برس میں کئی لاپتا افراد کو بازیاب بھی کروایا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جولائی دوہزار تیرہ میں پہلا دورہ کراچی کا کیا اس وقت دہشت گردی کی وجہ سے قائم علی شاہ پر تنقید ہوئی تو میں نے ان کے حق میں بیان دیا اور ان سے ملاقات میں کہا کہ کراچی میں آپریشن ضروری ہے اور اس کے کپتان آپ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر وفاق اور صوبے نے مل کر کراچی میں آپریشن کیا کیوں کہ ہمارے پاس کوئی اختیار نہیں کہ ہم اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں کارروائی کریں، صوبوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا اور سب سے زیادہ انٹیلی جنس شیئرنگ سندھ اور کے پی کیساتھ رہی یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس گیارہ سو اور اس سال ہزار سے کم دہشت گردی کے واقعات ہوئے ۔

وزیر داخلہ کےبیان پر ایم کیو ایم کے سینیٹر طاہر مشہدی اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر تاج حیدر نے احتجاج کیا جس کے بعد اجلاس میں گرما گرمی کی کیفیت پیدا ہو گئی تواپوزیشن اجلاس سے واک آوٹ کر گئی۔

بعد ازاں اپوزیشن لیڈراعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام اباد سےلاپتا افراد کے بارے میں وزیر داخلہ نے لیکچر دیا ہے جب کہ قوم کو کسی لیکچر کی ضرورت نہیں بلکہ پوری قوم چار مغویوں کے بارے میں فکر مند ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں