The news is by your side.

Advertisement

کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں، امریکی سینیٹر

واشنگٹن : امریکی سینیٹرکرس وان ہولین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔

تفصیلات کے مطابق امریکی سینیٹرکرس وان ہولین پاکستان پولیٹیکل ایکشن کمیٹی نے ملاقات کی۔ امریکی سینیٹر نےاسلام آباد، ملتان اور آزاد کشمیر کا دورہ کر کے حالات معلوم کیے۔

کرس وان ہولین نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرمیں کرفیو ہٹا کر انسانی حقو ق کے نمائندے بھیجے جائیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے نئی دہلی جانے والے امریکی سینیٹر کو وادی کا دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

کرس وان ہولین کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے وادی میں کرفیو اور مواصلات کا نظام معطل ہوئے تیسرا مہینہ شروع ہوگیا۔ امریکی سینیٹر کا کہنا تھا کہ وہ خود مقبوضہ کشمیر جا کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہتے تھے۔

امریکی سینیٹر کرس وان ہولین ان 50 کانگریس ممبران میں شامل ہیں جو مقبوضہ کشمیر میں امن وامان اور بھارتی فوجیوں کے ظلم وستم سے متعلق اپنے خدشات کا اظہار کرچکے ہیں۔

امریکی کانگریس کے وفد کا آزاد کشمیر کا دورہ

یاد رہے کہ 6 اکتوبر کو امریکی کانگریس کے وفد نے آزاد کشمیر کے دورے میں صدر سردار مسعود خان اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر سے ملاقاتیں کیں تھی، امریکی سینیٹرز کے وفد میں سینیٹر کرس وان اور میگی حسن شامل تھے۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی سینیٹرز نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے فوری کرفیو ختم کرکرے زیرحراست افراد کو رہا کیا جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں