The news is by your side.

Advertisement

سانحہ کرائسٹ چرچ، دہشت گرد کے خلاف ٹرائل کا آغاز

آکلینڈ: کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کا قتل عام کرنے والے دہشت گرد کے خلاف ٹرائل کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مساجد پر حملہ کرنے والے ملزم “برینٹن ٹیرنٹ” کے خلاف مقدمے کی حتمی چار روزہ سماعت آج شروع ہوگئی ہے جس میں اس کی سزا کا تعین کیا جائے گا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم کو قیدیوں کے لباس میں عدالت میں پیش کیا اور سماعت کے دوران ملزم خاموش رہا۔

دوران سماعت پراسیکیوٹر نے انکشاف کیا کہ ملزم برینٹن ٹیرنٹ تیسری مسجد کو بھی نشانہ بنانا چاہتا تھا، اس کے علاوہ مساجد کو آگ لگانا اور جتنا ممکن ہوسکے لوگوں کو قتل کرنا ملزم کے اہداف میں شامل تھا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے حالیہ برسوں میں حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی اور اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا تھا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملزم نے نیوزی لینڈ میں مساجد کی معلومات جمع کیں جن میں مساجد کا فلور پلان، ان کا مقام اور دیگر تفصیلات شامل ہیں جب کہ ملزم کا مقصد لوگوں کو اس وقت نشانہ بنانا تھا جب وہ عبادت میں مصروف ہوں۔

واضح رہے کہ 15 مارچ 2019 کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر نماز جمعہ کے دوران حملے کیے گئے جس میں ملزم آسٹریلوی شہری نے دو مسجدوں میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 51 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں