پیر, مارچ 24, 2025
اشتہار

سانحہ نیوزی لینڈ: برطانوی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا کمپنیز کو خبردار کردیا

اشتہار

حیرت انگیز

لندن : برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے نیوزی لینڈ حملے کی ویڈیو سے متعلق سوشل میڈیا کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ ’وہ شدت پسندی پر مبنی ویڈیو اپنے پیلٹ فارم سے ہٹائیں یا قانونی کارروائی کےلیے تیار رہیں‘۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر ہونے والے دہشت گردی کے وحشیانہ حملے اور نمازیوں کے بے دریغ قتل عام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا کمپنیوں کو وارننگ جاری ہے۔

ساجد جاوید کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو ایسے شدت پسندانہ پیغامات سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نشر ہونے سے روکنے کےلیے مزید کام کرنا ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ کرائسٹ چرچ میں واقع مساجد میں حملے کی ویڈیو 17 منٹ تک فیس بُک پر لائیو نشر ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا سے اصلی ویڈیو ہٹانے کے باوجود ویڈیو یوٹیوب، ٹوئٹر سمیت کئی جگہوں پر وائرل ہوچکی ہے۔

وزیر داخلہ ساجد جاوید نے عوام پر زور دیا کہ ’وہ بیمار اور باگل پن پر مبنی ویڈیو نہ دیکھیں‘ یہ غلط اور غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آن لائن پیلٹ فارمز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دہشتگردوں اور دہشت گردی کے کام نہ آئیں، ’نیوزی لینڈ میں دہشت گرد نے اپنے شدت پسندانہ نظریات پھیلانے کےلیے بے گناہوں کے قتل عام کی ویڈیو نشر کی‘۔

مزید پڑھیں : برطانوی حکومت نے لندن و مانچسٹر میں مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دی

یاد رہے کہ برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے گزشتہ روز نیوزی لینڈ حملے کی سخت الفاظ میں‌ مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، دہشت گرد ہمیں تقسیم نہیں کرسکتے، برطانوی شہریوں کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں : نیوزی لینڈ کی 2 مساجد میں فائرنگ‘ 49 افراد جاں بحق

خیال رہے کہ گزشتہ روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسلح افراد نے مساجد میں موجود نمازیوں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 49 افراد جاں بحق جبکہ 20 سے زائد زخمی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں واقع مساجد پر حملہ کرنے والے ایک دہشتگرد کا تعلق آسٹریلیا سے ہے جس کی شناخت برینٹن ٹیرنٹ کے نام سے ہوئی ہے، مذکورہ دہشت گرد خوفناک حملے کی برائے راست ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی نشر کررہا تھا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں