پیر, جون 8, 2026
اشتہار

کرسٹوفر کولمبس: مشہورِ عالم مہم جو اور متنازع شخصیت

اشتہار

حیرت انگیز

کرسٹوفر کولمبس دنیا کی تاریخ کا وہ نام ہے جو صرف کتابوں کے صفحات میں قید نہیں بلکہ یہ امریکا کو دریافت کرنے والے پہلے مہم جو کے طور پر ہر ایک کے لیے مانوس ہے۔ تاریخ داں متفق ہیں کہ کرسٹوفر کولمبس پہلا یورپی جہاز راں تھا جس نے پندرھویں صدی عیسوی میں امریکا دریافت کیا، لیکن اکثر اسے محض ایک قیاس بھی قرار دیا جاتا ہے۔ کرسٹوفر کولمبس سے متعلق کئی مشہور واقعات اور مختلف قصّوں کی صحّت بھی مشکوک ہے۔

یورپ کے لیے پندرھویں صدی عیسوی بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے جس میں یورپ جدید دور میں داخل ہوا اور ایجادات کے ساتھ یورپی ملکوں نے نئی سرزمینوں کو دریافت کرنے اور ان کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مہمّات کا آغاز کیا۔ اسی زمانے میں کرسٹوفر کولمبس ایشیا کی طرف نکلا لیکن خیال ہے کہ اس مہم جوئی میں وہ بھٹک کر دنیا کے اس حصے میں پہنچ گیا جو آج براعظم امریکا کہلاتا ہے۔

تاریخ کی کتابوں کے مطابق کرسٹوفر کولمبس 1451 میں اٹلی کے ایک شہر جنیوا میں پیدا ہوا۔ وہ ایک غریب جولاہے کا بیٹا تھا۔ کولمبس کو کتابوں سے زیادہ بحری جہازوں سے دل چسپی تھی اور وہ نئی دنیا کی کھوج لگانے کے جنون میں مبتلا تھا۔ اس نے جغرافیہ، تاریخ اور فلکیات کا مطالعہ کیا اور مہم جوئی کا سلسلہ شروع کیا تو اس کا علم بھی وسیع ہوا اور اس کی ہمّت بھی بڑھی۔ کرسٹوفر کولمبس کو بعض تاریخ دانوں نے ذہین بھی لکھا ہے اور ایک چالاک شخص بھی بتایا ہے، تاہم اس کے بارے میں یہ کہنا کہ امریکا کی سرزمین کولمبس اور اس کے ساتھیوں کے قدم رکھنے سے پہلے ویران اور یکسر خاموش تھی، درست نہیں۔ اکثر محققین اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ کولمبس سے پہلے بھی یہاں لوگ بستے تھے اور انھوں نے ہی اسے اپنی سرزمین پر خوش آمدید کہا تھا۔ کرسٹوفر کولمبس نے اپنی مہم جو طبیعت اور ذہانت کی بدولت کسی طرح اپنے زمانے میں‌ اسپین کے بادشاہ فرنینڈس دوم اور ملکہ ازابیلا تک رسائی حاصل کرلی تھی۔ وہ دنیا کے نئے علاقوں پر حکومت کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے اور کولمبس نے ان کے ارادوں کی تکمیل کا یقین دلایا تو اس کی سرپرستی کرنے کا فیصلہ کیا اور مغرب کی جانب ایک بحری سفر کے لیے شاہی خزانے سے کولمبس کو امداد دی۔ کولمبس نے بادشاہ اور ملکہ سے وعدہ کیا کہ وہ نئی زمین دریافت کرکے وہاں اسپین کا جھنڈا لہرائے گا اور اسپین کو یورپ کی ایک عظیم طاقت بننے میں مدد دے گا۔ اس نے تین جہازوں کے ساتھ اگست 1492 میں پہلی مہم کا آغاز کیا اور تاریخ دانوں کے مطابق ہر قسم کے ناموافق حالات اور سمندری آفات سے لڑتے ہوئے بالآخر 12 اکتوبر 1492 میں بہاماس کے ایک جزیرے پر لنگر انداز ہوا۔ بعد ازاں، کولمبس کیوبا اور اس وقت کے ہسپانیولا (موجودہ ہیٹی) پہنچا اور اسے اسپین کی نو آبادی میں تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان ملکوں کا تعلق براعظم شمالی امریکا سے ہے جس کا آج سب سے بڑا ملک ریاست ہائے متحدہ امریکا کہلاتا ہے۔ اس پس منظر میں کہا جاسکتا ہے کہ کرسٹوفرکولمبس نے براہِ راست موجودہ امریکا نہیں بلکہ وہ جزیرے دریافت کیے تھے جو براعظم شمالی اور جنوبی امریکا کا حصہ ہیں۔

20 مئی 1506ء کو اس دنیا سے رخصت ہونے والے کولمبس کو جدید دنیا میں ایک متنازع شخصیت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ دراصل براعظم امریکا کی دریافت کا دن وہاں کی مختلف ریاستوں میں "کولمبس ڈے” کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لاطینی امریکا کے علاوہ اٹلی اور اسپین میں بھی کولمبس ڈے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ مگر پچھلے چند برسوں میں اس پر کئی اعتراضات کیے گئے ہیں اور اسی خطّے کی چند ریاستوں میں کولمبس کو نہ تو اس موقع پر یاد کیا جاتا ہے اور نہ ہی لوگ یہ دن مناتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کولمبس ایسی شخصیت نہیں جس کے لیے کوئی دن مخصوص کیا جائے اور اسے عزّت اور احترام سے یاد کیا جائے۔ اس مخالفت کی کئی وجوہ ہیں‌۔ بعض مؤرخین کے مطابق وہ ایک ظالم، مفاد پرست اور سفاک شخص تھا جس نے مقامی لوگوں کو ان کی زمین پر فوجی طاقت اور مادّی اسباب و وسائل کی بنیاد پر غلام بنا لیا تھا۔ مارک ڈیر جیسے متعدد مصنّفین نے اسے ایک وحشی، ظالم اور غارت گر لکھا ہے۔ ایسے مصنفین کے مطابق کولمبس نے بحری مہمّات میں دورانِ قیام مقامی لوگوں کی خدمات اور ان سے کھانے پینے کی ہر سہولت حاصل کرنے کے باوجود انھیں‌ نقصان پہنچایا۔ ان سے جبری مشقت لی اور قبائلی عورتوں سے جنسی زیادتی کا مرتکب ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کولمبس ہی تھا جس نے براعظم امریکا اور یورپ کے درمیان غلاموں کی تجارت کا آغاز کیا اور اسی کے نتیجے میں لاکھوں سیاہ فام افریقی غلام بنا کر امریکا اور دوسرے علاقوں میں بھیجے گئے، جہاں ان سے بد ترین جبری مشقت لی گئی اور انکار پر ان کو قتل اور اکثر ایذا پہنچایا گیا۔ امریکا کی کئی ریاستوں میں کولمبس کے مجسمے بھی نصب ہیں‌ جن کو توڑنے کے واقعات بھی حالیہ برسوں میں پیش آئے ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں