The news is by your side.

Advertisement

ملک کی تاریخ میں پہلی بار طاقت ور کا احتساب ہو رہا ہے: چوہدری سرور

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما چوہدری سرور نے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار طاقت ور کا احتساب ہو رہا ہے اور ان کے خلاف فیصلے بھی آرہے ہیں، لیکن دنیا سمجھتی ہے کہ طاقت ور کا احتساب نہیں ہوتا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’الیونتھ آور‘ میں انٹرویو دیتے ہوئے کیا، چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ کوئی وزیر اقامہ رکھتا ہے اور بیرون ملک کام کرتا ہے تو ایسا کرنا غیر قانونی ہے، جس کے پاس اقامہ ہے اور اس نے اب تک ظاہر نہیں کیا تو ایسے لوگ 2018 میں الیکشن نہ لڑیں۔

انہوں نے کہا کہ اب جو اقامہ ظاہر کرے اس سے پوچھا جائے کہ کیا 2013 میں بھی اقامہ رکھتے تھے، احتساب کا عمل سب کے لئے برابر ہونا چاہئے، احتساب کا عمل اور قانون کا اطلاق سب کے لیے برابر ہونا چاہیئے، ملک کے وزیر خارجہ کا کسی دوسرے ملک کا اقامہ رکھنا مناسب نہیں ہے۔

نااہلی کے بعد الیکشن کمیشن نے خواجہ آصف کی اسمبلی رکنیت ختم کردی، نوٹیفکیشن جاری

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کبھی بھی آرٹیکل 63، 62 پر بحث نہیں ہوئی جبکہ ایسے حالات میں پاکستان کے عوام ترمیم کو قبول نہیں کریں گے، لیکن میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آرٹیکل 63 ،62 پر پارلیمنٹ میں بحث ضرور ہوسکتی ہے۔

چوہدری سرور کا کہنا تھا کہ وکٹیں گرانے کی بات کو لوگ مفروضوں کی طرف لے جاتے ہیں، جب کوئی پارٹی میں شامل ہونے جارہا ہوتا ہے تو وکٹیں گرانا کہتے ہیں، فہمیدہ مرزا پی ٹی آئی میں شامل ہوگئی ہیں جبکہ پی ٹی آئی کو سب سے بڑی جماعت بنانے میں کارکنوں نے 22 سال سے قربانیاں دی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آج سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، پارٹی کے دروازے کھلے ہوتے ہیں بند نہیں کرسکتے، ٹکٹ دیتے وقت پارٹی سے وفاداری، الیکشن لڑنے کا طریقہ بھی دیکھا جائےگا، پی ٹی آئی کے وفادار کارکنوں کو مدد نظر رکھا جائے گا۔

مینارپاکستان پرجلسہ لازمی ہوگا چاہے اجازت ملے یا نہ ملے‘ چوہدری سرور

خیال رہے کہ  وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے ہائی کورٹ نے ملک کے وزیرِ خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے سینئیر رہنما خواجہ آصف کو اقامہ رکھنے کے معاملے پر آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دے دیا ہے، جس کے بعد اب الیکشن کمیشن نے ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت کے خاتمے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں