The news is by your side.

قلعہ بجنوٹ جسے شہاب الدّین غوری نے مسمار کروا دیا تھا

قلعہ بجنوٹ کا پرانا نام ونجھروٹ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس قلعے کو شہاب الدّین غوری کے حکم پر تباہ کر دیا گیا تھا۔

قدیم آثار پر معلوماتی کتابوں میں اس قلعے کو راجا ونجھہ یا بجا بھاٹیا سے منسوب کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کا سنہ 757ء لکھا ہے۔ بعض مؤرخین ان باتوں سے اختلاف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ راجہ ونجھا نے اسے 1178ء ہی میں تعمیر کروایا تھا لیکن اسے غوری نے مسمار کر دیا تھا۔ بعد میں راجہ کہڑ کے بیٹے راجہ تنو نے اسے ازسر نو تعمیر کیا۔ مؤرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ قلعے کا نام بیجا نوٹ تھا جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجنوٹ ہو گیا۔ پھر یہ موسم اور حالات سے لڑتا رہا اور صدیوں بعد اس قلعے کو 1757ء میں موریا داد پوترہ نے دوبارہ تعمیر کروایا۔ اس تعمیر کے دو سو سال بعد آخر کار اس کا اوپری حصّہ منہدم ہو گیا۔ آج بھی اس قلعے کی بنیاد پر عمارت کے کھنڈر دیکھے جاسکتے ہیں، جن سے وہاں آمدورفت اور سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ قلعہ بہاولپور شہر سے 163 کلومیٹر دور اور نواں کوٹ قلعہ سے 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کی تعمیر میں مقامی چونے کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ اس قلعے کو گولائی میں چاروں اطراف سے 300 فٹ تک پھیلایا گیا تھا۔ اس کے شمالی حصّے کی طرف 11 فٹ چوڑا داخلی دروازہ ہے اور تین کمرے اس کے اوپر بنائے گئے تھے۔ قلعے کی دیواریں 21 فٹ تک بلند رکھی گئی تھیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق قلعے کے 4 بڑے اور 2 چھوٹے برج تھے جن پر جانے کے لیے سیڑھیاں موجود تھیں۔ ایک برج مکمل طور پر مسمار ہو چکا ہے جب کہ باقی 3 انتہائی خستہ حالت میں ہیں اور اب تقریباً ڈھیر ہوچکے ہیں ۔

قلعہ بجنوٹ کے اندر پانی کے دو تالاب بھی بنائے گئے تھے جو 21 فٹ پر محیط تھے اور ان کی گہرائی 40 فٹ تک تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں