site
stats
انٹرٹینمںٹ

ولن کا کردار: چنکی پانڈے نے ’’حلیہ‘‘ ہی تبدیل کرلیا

ممبئی : بھاری فلم انڈسٹری نت نئے تجربات کے ذریعے اپنے شائقین کو متوجہ کرنے کے لیے کوشاں رہتی ہے اور اس کوشش کو کمال درجے تک پہنچانے کے لیے ہدایت کار سے لے کر اداکار پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مہارت کے ساتھ نبھاتے ہیں۔

فلم میں کردار کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے اداکار نئے روپ ہی نہیں دھارتے بلکہ جسمانی تبدیلیاں تک لے آتے ہیں جس کی کئی مثالیں موجود ہیں لیکن اسے نیا انداز عامر خان نے دیا جو اپنے اسی انداز کی وجہ سے فلم انڈسٹری میں مسٹر پرفیکشنسٹ کہلائے جاتے ہیں جو کردار کے مطابق اپنے جسم میں تبدیلیاں لے آتے ہیں۔

ایک عرصہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ہیرو اور مزاحیہ اداکاری کرنے والے چکی پانڈے بھی کسی تعارف کے محتاج نہیں انہوں نے مزاحیہ کردار بھی اتنی ہی عمدگی سے نبھائے ہیں جتنا کہ رومانوی کردار میں فنکارانہ جوپر دکھائے یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں طرح کے کرداروں میں مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

تاہم اب چکی پانڈے کے مداح اب انہیں ایک الگ کردار میں دیکھیں گے جس میں وہ مزاحیہ فقروں سے شائقین کو ہنسانے پر مجبور کرتے نظر آئیں گے اور نہ ہی کسی رومانوی منظر میں چاکلیٹی ہیرو کی جھلک دکھائیں گے بلکہ وہ اپنی شہرت کے برعکس کردار میں جلوہ گر ہوں گے۔

ودیا بالن کی کل ریلیز ہونے والی فلم ’’بیگم جان‘‘ میں چکی پانڈے ولن کا کردار ادا کریں گے جس کے گیٹ اپ کے لیے انہوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے سر کے بال اتر والیے ہیں بلکہ جسمانی خد وخال میں بھی نمایاں تبدیلیاں لے آئے ہیں اس لیے ان کی شائع ہونے والی نئی تصاویر میں فلم بین انہیں پہچاننے سے قاصر نظر آئے۔

ایک بھارتی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے چنکی پانڈے کا کہنا تھا کہ بیگم جان کے لیے آڈیشن دینے کے بعد میں مایوس تھا کہ یہ کردار مجھے نہیں ملے گا لیکن فلم کے ہدایت کار سرجیت مکھرجی نے میری ایک منفی چیز کو کردار میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا اور روایتی چنکی پانڈے کو ختم کرکے منفی پہلو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں مجھے فلم میں کاسٹ کر لیا گیا۔

اپنے بیان کی مزید وضاحت دیتے ہوئے چنکی پانڈے کا کہنا تھا کہ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی منفی پہلو ہوتا ہے جسے وہ دبائے رکھتا ہے تاہم میں فلم ڈائریکٹر کی ہدایت پر اپنے اندر کے منفی پہلو کو فلم کے کردار میں استعمال کیا اور اپنا روایتی امیج بدل کر اپنی منفی صلاحیتیں آزمانے کا فیصلہ کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top