The news is by your side.

Advertisement

بھارت میں چرچ پر بلوائیوں کا حملہ، عیسائی برادری سراپا احتجاج

نئی دہلی : بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر روڑکی میں سول لائن کوتوالی علاقے میں واقع سلونی پورم میں چرچ پر حملے کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے۔

متاثرین اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت انجام دیا گیا تھا اور اس کے لیے کئی دنوں سے مسیحی برادری کے لوگوں پر طنز کئے جا رہے تھے۔ چرچ انتظامیہ نے تھانے میں شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

حیران کن بات یہ ہے کہ چرچ پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار تو کیا کیا جاتا الٹا متاثرین کے خلاف ہی تبدیلی مذہب کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

بھارت کی بڑی حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کی جانب سے احتجاج کی کال پر پولیس کی دوڑیں لگ گئیں، اترا کھنڈ کے ڈی جی پی اشوک کمار کی مداخلت کے بعد اس واقعے کے کئی دنوں کے بعد روڑکی پولیس میں ہلچل نظر آئی اور پولیس اہلکار زخمیوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے لیے اسپتال پہنچ گئے۔

بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق حملہ کے پیچھے چرچ کی کروڑوں روپے کی مالیت کی زمین بھی ہے، جس پر کچھ ہندو وادی رہنما قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور انہوں نے مذہب کے نام پر مبینہ طور پر مقامی لوگوں کو اکسا کر چرچ پر حملہ کروایا۔

عینی شاہدین کے مطابق چرچ پر گزشتہ پیر کی صبح 10 بجے خوفناک حملہ کیا گیا۔ پرنس نامی ایک متاثرہ نوجوان نے بتایا کہ اس حملہ کو یاد کرکے وہ ابھی تک لرز رہے ہیں۔

ہندو تنظیموں سے وابستہ سینکڑوں افراد نے لاٹھی ڈنڈے لے کر مسیحی برادری کے لوگوں پر حملہ کیا۔ وہ وندے ماترم اور بھارت ماتا کی جے اور جے شری رام کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی اور ہم پر حملہ کیا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ ہم پر تبدیلی مذہب کا الزام لگاتے ہوئے ہمارے گھروں کا سامان توڑ کر ہمارے موبائل چھین لیے۔ ہمیں بتایا جائے کہ کیا یہاں صرف ہندو برادری کے لوگ ہی رہیں گے؟

سلونی پورم کی رہائشی پریو سانا پورٹر نے اس واقعہ کے خلاف پولیس رپورٹ درج کرائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملہ آوروں کو جانتی تھی کیونکہ وہ مقامی تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگوں سے ان کے خاندانی تعلقات ہیں اور ان میں سے ایک نے مجھے پڑھایا بھی ہے، لیکن نفرت نے اسے اندھا کردیا ہے۔

ان کی قیادت بی جے پی کی یوتھ ونگ اور او بی سی شعبہ کے رہنما کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ خواتین بھی موجود تھیں، حملہ آوروں کی تعداد 200 سے زائد تھی وہ ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں