site
stats
پاکستان

کراچی: ترقیاتی کام نامکمل، بارشیں شہریوں کے لیے دردِ سر بن گئیں

کراچی: شہر قائد میں جاری گرین لائن بس منصوبہ ایک سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکا جس کی وجہ سے مین شاہراہیں کھنڈر میں تبدیل ہوگئیں، شہر میں جاری ترقیاتی کام اور بارشیں شہریوں کے لیے عذاب بن گئیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال 2016 میں شروع ہونے والا گرین لائن بس منصوبہ وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جس کی لاگت 16 ارب روپے سے ہوئی تھی۔

منصوبے کا پہلا فیز سرجانی ٹاؤن سے نیو ایم اے جناح روڈ تک مقرر کیا گیا تھا تاہم اس کے روٹ میں تین بار توسیع کا اعلان کیا گیا جس کے بعد روٹ کو گرومندر اور ایم اے جناح روڈ سے گزر کر ٹاور جانا تھا مگر پلاننگ کمیشن کی مشاورت پر گرین لائن بس منصوبے کے روٹ میں تیسری بار توسیع کی گئی۔

تین مرحلوں میں توسیع کے بعد گرین لائن بس منصوبے کی گذر گاہ 35 کلومیٹر تک پہنچ چکی ہے، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں توسیع کے بعد منصوبے کی لاگت 16 ارب سے بڑھ کر 26 ارب تک پہنچی۔

گرین لائن بس منصوبے کا آغاز گزشتہ برس فروری میں کیا گیا تھا، منصوبے کے آغاز پر وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ ایک سال کے اندر یعنی رواں ماہ جون 2017 تک ہونا تھا تاہم مگر مقررہ وقت گزر جانے کے باوجود ابھی آدھا کام بھی نہیں ہوسکا۔

شہر قائد میں جاری بارشوں کے باعث ترقیاتی کام لوگوں کے لیے درد سر بن گئے ہیں، سرجانی ٹاؤن سے شروع ہونے والا گرین لائن بس منصوبہ کی ادھوری تکمیل کے باعث سڑکوں پر کیچڑ اور گڑھے موجود ہیں جس کے باعث شہری شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور ٹریفک جام جیسے مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top