سول ایوی ایشن اتھارٹی میں فلائٹ انسپکٹر کی عدم موجودگی کا انکشاف -
The news is by your side.

Advertisement

سول ایوی ایشن اتھارٹی میں فلائٹ انسپکٹر کی عدم موجودگی کا انکشاف

کراچی: سول ایوی ایشن اتھارٹی میں اے ٹی آر طیاروں کی ریگولیٹری ڈیوٹیز کے لیے فلائٹ انسپکٹر کی عدم موجودگی کے انکشاف کے بعدسی اے اے نے مذکوہ طیاروں کے لیے موجود فلائٹ انسپکٹرز کی تربیت کے لیے پی آئی اے سے رابطہ کرلیا۔

اتھارٹی کی جانب سے تربیت کی فراہمی کے لیے پی آئی کو لکھا گیا خط۔ اے آر وائی نیوز کو موصول ہوگیا۔ خط ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈ کیپٹن عارف مجید نے ارسال کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی اے اے کے انسپکٹروں کی مذکورہ تربیت پر پی آئی اے کے بھاری اخراجات ہوں گے۔

سی اے اے کے خط میں درکار مہارت اور تجربے کے حامل انسپکٹرز کی عدم دستیابی کا کہا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سی اے اے انسپکٹروں کی تربیت کے حوالے سے بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کر رہی ہے۔

بین الاقوامی قوانین کے پیرا 8335 کے مطابق ریگولیٹر اتھارٹی اپنے انسپکٹروں کی تربیت کسی بھی آپریٹر سے نہیں کروا سکتی۔

آپریٹر سے تربیت کروانے کو بین الاقوامی ایوی ایشن نے سخت ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے خط میں اس بات کا اقرار کیا ہے کہ ان کے انسپکٹر نااہل ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے انسپکٹروں کی تربیت پر پی آئی اے کو کروڑوں ڈالرز کے اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں