site
stats
بلوچستان

سانحہ سول اسپتال: پولیس حکام کا ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری سے اظہارلاعلمی

کوئٹہ: ڈی آئی جی عبد الرزاق چیمہ نے سانحہ سول اسپتال کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ پولیس حکام نے سانحہ سول ہسپتال اور سانحہ پولیس ٹریننگ کالج کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے، ڈی آئی جی کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے سانحہ سول ہسپتال کے جوڈیشل کمیشن کے سامنے وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے دہشت گردی کے واقعات کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔

سانحہ سول اسپتال کی تحقیقات کے لیے بنائے جانے والے کمیشن نے جمعے کے روز 9 گھنٹے کارروائی کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں وفاقی سیکرٹری داخلہ عارف احمد خان بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔


’’ پڑھیں: سانحہ کوئٹہ پر ملک بھر کی فضا سوگوار، ہر آنکھ پُر نم ‘‘


جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سیکریٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر وفاقی حکومت کا ہر شخص علیحدہ علیحدہ جواب دے تو پھر کام نہیں چلے گا آپ کے جوابات ہر ایک کو خوش کرنے والے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان نے یہاں سب تسلیم کیا ہے میں یہاں لوگوں کو جگا رہا ہوں کہ ملک کے مستقبل سے نہ کھیلیں ہم سیکرٹری داخلہ اسپیشل سیکرٹری سمیت سب کو دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی مطمئن نہیں کر رہا ہمیں وفاقی حکومت سمیت سب کو انکی ذمہ داریاں یاد کرانا پڑ رہی ہیں۔


’’ مزید پڑھیں: سانحہ کوئٹہ : تحقیقاتی کمیشن کا فرانزک ٹیم اور نیکٹا سے معاونت کا فیصلہ ‘‘


 آئی جی پولیس نے سوالات کے جوابات لفافے کے ذریعے کمیشن میں جمع کروادیئے ، ڈی آئی جی کوئٹہ نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ ایس ایس پی اعتزاز گورایا سانحہ 8اگست کی تفتیش کر رہے ہیں اور وہ مجھے رپورٹ کرتے ہیں سول ہسپتال واقعہ کے ماسٹر مائنڈ کی گرفتاری کا مجھے علم نہیں ہے۔

کمیشن نے شہید داؤد کاسی ایڈووکیٹ کے بھائی عنایت کاسی ایڈووکیٹ ،نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ،ولی خان ناصرایڈووکیٹ کے بیانات قلمبندکرلیے کمیشن کی مزید کارروائی ہفتہ کو ہوگی جس میں مزید چار وکلاء کے بیانات قلمبند کئے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top