The news is by your side.

Advertisement

نواز شریف اور ایم کیو ایم قائد کی تقاریر کیخلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے 2نئے فل بنچ تشکیل

لاہور : چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ایم کیو ایم لندن کے قائد کی تقاریر کے خلاف درخواستوں کی سماعت کیلئے دو نئے فل بنچ تشکیل دے دیئے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یاور علی نے نواز شریف, مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کیخلاف عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات پر پابندی اور توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت کیلئے تیسرا فل بنچ تشکیل دیا ہے۔

فل بنچ کی سربراہی جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کریں گے، درخواست گزاروں کی جانب سے عدلیہ مخالف بیانات ہر کارروائی اور تقاریر کی نشریات پر پابندی کی استدعا کی گئی ہے۔

اس سے قبل بینچ جسٹس شاہد مبین کی معذرت کرنے پر تحلیل ہوگیا تھا، نئے بنچ جسٹس شاہد مبین کی جگہ جسٹس شاہد جمیل خان کو شامل کیا گیا ہے۔


مزید پڑھیں :  نوازشریف اور مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا


دوسری جانب ایم کیو ایم لندن کے قائد کیخلاف غداری مقدمہ کیلئے بھی نیا بنچ تشکیل دیا گیا ہے، پرانا بنچ جسٹس علی باقر نجفی کی عدم دستیابی پر تحلیل ہوگیا تھا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نیا بینچ تشکیل دیتے ہوئے فل بینچ میں جسٹس علی باقر نجفی کی جگہ جسٹس سردار احمد نعیم کو شامل کیا ہے جبکہ بینچ میں ایک خاتون جج جسٹس عالیہ نیلم بھی شامل ہیں۔

نواز شریف اور ایم کیو ایم لندن کے قائد کی تقاریر پر قائم ہونے والے دونوں نئے بنچز کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی ہیں جبکہ متعلقہ حکام کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ فل بنچ کے پاس نوازشریف ،مریم نواز اور لیگی رہنماوں کی عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف متعدد درخواستیں زیر سماعت ہیں، جن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پانامہ فیصلے کے بعد میاں نواز شریف،مریم نواز اور لیگی رہنماوں نے عدلیہ مخالف تقاریر کیں اور عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑایا جو واضح طور پر توہین عدالت ہے۔

درخواستوں میں کہا گیا کہ ن لیگی رہنماوں کی تقاریر سے ملک میں انتشار پیدا ہو رہا ہے لہذا ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور پیمرا کو توہین آمیز تقایری کی نشریات روکنے کا حکم دیا جائے۔

واضح رہے کہ ایم کیو ایم لندن کے سربراہ کے خلاف مقامی وکیل آفتاب ورک سمیت دیگر نے درخواستیں دائر کی تھیں، جس پر تین رکنی فل بنچ نے 2016 میں ایم کیو ایم کے قائد کے نام، بیانات اور تصاویر کی اشاعت پر پابندی لگائی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں