The news is by your side.

Advertisement

اضافی سیکیورٹی واپس لینے پر آئی جی کی عدالت میں تعریف

پشاور: وی آئی پی پروٹوکول سے متعلق کیس میں آئی جی خیبر پختونخواہ نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو رپورٹ پیش کی۔ چیف جسٹس نے آئی جی کی کارکردگی کو سراہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں وی آئی پی پروٹوکول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کے گزشتہ روز کے سیکیورٹی واپس لینے کے حکم کے بعد آئی جی نے صوبے میں سیکیورٹی واپس لینے والوں سے متعلق رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق صوبے کے 22 اضلاع سے مجموعی طور پر 1 ہزار 7 سو 69 افراد سے نفری واپس لی گئی۔

صوبے کی سب سے زیادہ نفری پارلیمینٹیرینز کو دی گئی تھی۔ مجموعی طور پر 3 سو 97 پارلیمینٹیرینز سے نفری واپس لی گئی۔

فہرست میں دوسرے نمبر پر سول سرکاری افسران کی تعداد 3 سو 49 ہے۔

سابق اور موجودہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سے بھی نفری واپس لی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 3 سو 41 اراکین کو سیکیورٹی دی گئی تھی۔

رپورٹ پیش کرنے پر چیف جسٹس نے آئی جی کی تعریف کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کام کیا، آپ کا شکریہ۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز چیف جسٹس کے استفسار پر آئی جی نے بتایا تھا کہ اس وقت صوبے میں 3 ہزار اہلکار ذاتی سیکیورٹی پر ہیں۔

چیف جسٹس نے صوبے میں سرکاری و غیر سرکاری شخصیات کو دی گئی اضافی سیکیورٹی فوری طور پر واپس لینے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جن کے پاس سب کچھ ہے وہ اپنی سیکیورٹی کا بھی خود انتظام کریں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں