The news is by your side.

Advertisement

جہاں کتوں کا علاج ممکن نہیں وہاں انسانوں کا آپریشن کیسے ہوتا ہے؟ چیف جسٹس کا سوال

پشاور: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ جہاں کتوں کا علاج ممکن نہیں وہاں انسانوں کا آپریشن کیسے ہوتا ہے؟

وہ پشاور میں ایوب میڈیکل ٹیچنگ اسپتال سے متعلق کیس کی سماعت کر رہے تھے، قبل ازیں اسپتال کے چیئرمین عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اسپتال کا آپریشن تھیٹر دیکھا ہے، جس پر چیئرمین نے کہا کہ جی دیکھا ہے، وہاں پر کتوں کا علاج بھی ممکن نہیں۔

ثاقب نثار نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو مخاطب کرکے کہا چیف سیکریٹری صاحب دیکھیں چیئرمین کیا کہہ رہے ہیں، ایوب میڈیکل اسپتال کے بورڈ آف گورنر کے چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں تو کیسے بہتری لائیں۔

چیف جسٹس نے کہا میں سوچ رہا ہوں اسپتال کے لیے نیا بورڈ تشکیل دوں، بعد ازاں سپریم کورٹ نے سیکریٹری ہیلتھ اورڈاکٹرز پر مشتمل کمیٹی قائم کردی۔

دریں اثنا پشاور میں ایک اور مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاگل خانے کا لفظ کبھی استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ قبل ازیں پشاور کے نفسیاتی اسپتال کا دورہ کرنے کے بعد کیس کی سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 26 سال سے وہاں موجود لوگ برے حال ہیں، میں آج وہاں گیا، نفسیاتی مریضوں کے ساتھ کیا کیا ہورہا ہے۔

وزیرخزانہ بتائیں، موبائل کارڈز پر سیلز اور ودہولڈنگ ٹیکس کس قانون کے تحت وصول کیاجارہاہے؟ چیف جسٹس

انھوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک چارپائی پر تین تین افراد لیٹے ہیں، جب کہ تنخواہیں لینے کے لیے مختلف باڈیز بنالی جاتی ہیں، کام کچھ نہیں ہو رہا۔

انھوں نے سوال کیا کہ یہاں کی لیڈر شپ کیا کر رہی ہے، انھوں نے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مسائل حل کیے جائیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں