The news is by your side.

Advertisement

قانون پر عملدر آمد کا وعدہ پورا نہ کیا تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا: چیف جسٹس

لاہور: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ قانون پر عملدر آمد کا وعدہ پورا نہ کیا تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا۔ ہم نے فیصلہ کرلیا اس ملک میں آئین اور قانونی کی حکمرانی رہے گی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے لاہور میں تقریب سےخطاب کیا۔

اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آصف سعید کھوسہ کے بغیر نا مکمل ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ میرے بینچ کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک آزاد ادارہ ہے۔ عدلیہ آزاد ہے اور اس پر سب کو فخر ہونا چاہیئے۔ ’ججز اور وکلا اپنی ڈیوٹی دیانت داری سے کریں۔ ہم اس قوم کے مقروض ہیں، انصاف کرنا احسان میں شامل نہیں۔ کسی جج کو کوئی اختیار نہیں اپنی مرضی اور منشا کا فیصلہ کرے۔ ہم نے مظلوم کی داد رسی کرنی ہے مرضی کے فیصلے نہیں کرنے ہیں‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کل خوشحال بی بی کا کیس سن کر شرم آئی جسے 433 روپے پنشن مل رہی تھی۔ ’عجیب انصاف ہو رہا ہے ایل ڈی اے کا اہلکار ریٹائرڈ ہوتا ہے پنشن پر افسر بیٹھ جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ سب سے ایک سال کا تحفہ مانگ رہا ہوں۔ اس ایک سال کے تحفے سے ہمارا مستقبل سنور جائے گا۔ ’ایک سال دیانت داری سے کام کریں پھر آپ مزہ بھی دیکھیں۔ ایک سال دیانت داری سے کام کرنے پر آپ کو اس کا چسکہ لگ جائے گا‘۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ منافقت نہیں کرنی سب سے پہلے حضرت عمرؓ کی طرح خود پر عمل کرنا ہے۔ جس دن حضرت عمرؓ جیسی قیادت مل گئی تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا اس ملک میں آئین اور قانونی کی حکمرانی رہے گی۔ ’آئین اور قانون پر عملدر آمد کا وعدہ پورا نہ کیا تو میرا گریبان اور آپ کا ہاتھ ہوگا‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں