The news is by your side.

Advertisement

بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ایشوز اٹھائے تاکہ بہتری آئے: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ہم نے ڈیمز کا ایشو اٹھایا تو کیا یہ انتظامی معاملات میں مداخلت ہے؟ بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ایشوز اٹھائے تاکہ بہتری آئے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پولیس ریفارمز کمیٹی رپورٹ سے متعلق تقریب سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کرمنل جسٹس سسٹم کسی بھی معاشرے میں امن کی ضمانت دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اے ڈی خواجہ کیس سے پہلے پولیس ریفارمز پر کسی نے توجہ نہیں دی، اے ڈی خواجہ کیس پر وکیل نے کہا یہ سسٹم کی کمزوری کا معاملہ ہے۔ سوال اٹھا کرمنل جسٹس سسٹم کو کیسے ریفامز کی طرف لے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس ریفارمز سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں ہے، نظام انصاف کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ پولیس اصلاحات پر اب تک زیادہ کام نہیں ہوسکا ہے۔ ہمیشہ کوشش رہی کہ پولیس خود آزادانہ کام کرے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سردار طارق کھوسہ وہ ہیں جو اچھا کام کرتے ہیں پر کہتے ہیں میرا نام نہ بتانا۔

ان کا کہنا تھا کہ قیام امن اور قانون کی عملداری میں پولیس کا اہم کردار ہے، پولیس کو غیر سیاسی اور عوام دوست بنانا چاہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کئی کیسز میں اختیارات کا غلط استعمال بھی ہوا، اختیارات کے غلط استعمال کی وجہ سے کیسز کا بوجھ عدلیہ پر پڑا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ حکام عوام کو نہیں سنتے، مجبوری میں عوام عدلیہ کے پاس آتے ہیں۔ پولیس تحقیقات میں نقائص کی وجہ سے مجرموں کو فائدہ ہوتا ہے۔ امید ہے پولیس تحقیقات کے طریقہ کار کو بہتر بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اکثر جگہ پر انتظامیہ ناکام نظر آتی ہے، ڈیمز کا ایشو ہم نے اٹھایا تو کیا یہ انتظامی معاملات میں مداخلت ہے؟ بنیادی انسانی ضروریات کے لیے ایشوز اٹھائے تاکہ بہتری آئے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق کے سیکشن میں ایک لاکھ 67 درخواستیں نمٹائیں، عدلیہ کے تمام فیصلے معاشرے کی بہتری کے لیے ہیں۔ جوڈیشری نے عوام کا اعتماد حاصل کیا ہے، 85 فیصد کیسز نمٹائے گئے اور عوام کو ریلیف دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں