The news is by your side.

Advertisement

پنجاب کی عدالتیں قتل ثابت نہ ہونے پر بھی سزائے موت سنادیتی ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے 10 سال بعد قتل کےملزم کی رہائی کا حکم دےدیا

اسلام آباد : چیف جسٹس آصف کھوسہ نے 10 سال بعد قتل کےملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا اور کہا پنجاب کی عدالتیں قتل کا مقدمہ  ثابت ہو توسزائےموت نہ ہوتوعمرقیدکی سزاسناتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے قتل کے ملزم محمدرضوان کی اپیل پر سماعت ہوئی ، چیف جسٹس نے کہا میڈیکل رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر ، عینی شاہدین کے بیان میں تضادہے، جس پر وکیل مقتول نے بتایا پولیس نے اس مقدمے میں حقائق چھپائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا آپ نے پولیس کو بے ایمان کہا تو کیا پولیس بے ایمان ہوگئی، یہی مسئلہ ہے ہمارا کہ فیصلہ حق میں آئے تو ٹھیک، جب  جھوٹےگواہ بن جائیں تو کہیں نہ کہیں ریکارڈ سے پتہ چل جاتا ہے۔

سپریم کورٹ نے 10 سال بعد قتل کے ملزم محمد رضوان کی اپیل منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ پنجاب کا کیس ہے، پنجاب کی عدالتیں قتل کا مقدمہ ثابت ہوجائے تو سزائے موت سناتی ہیں اور قتل ثابت نہ ہو تو عمرقید کی سزاسناتی ہیں، جس مقدمے میں عمر قید ہو اس کے شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہوتاہے۔

محمدرضوان سمیت دیگرملزمان پر 2009 میں قتل کاالزام تھا، جائیدادکے تنازع پر جاویدسلیمان کو بھکر کی تحصیل کلور کوٹ میں قتل کیاگیا تھا، ٹرائل کورٹ نے محمدرضوان کو عمرقیدکی سزاسنائی تھی جبکہ ہائی کورٹ نے ٹرائل کوٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

تہرے قتل کے مجرموں کی عمرقید کے خلاف اپیلیں مسترد


دوسری جانب چیف جسٹس آصف کھوسہ نے تہرے قتل کے مجرم آفتاب،اشفاق،عرفان کی عمرقید کے خلاف اپیلیں مسترد کردیں ، تینوں مجرموں نے 2016 میں گوجرانوالہ میں 3 افراد کو قتل کیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نےتینوں مجرموں کوسزائےموت کا حکم سنایاتھا جبکہ ہائی کورٹ نے مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیاتھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں