The news is by your side.

Advertisement

اللہ کی رضا کے لیےسچ بولنا چاہیے، چیف جسٹس سپریم کورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے غیرت کے نام پر قتل کیس میں ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے اللہ کی رضا کے لیےسچ بولنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے ناجائز تعلقات کی بنا پر مطلوب حسین کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کی۔

دور ان سماعت وکیل نے کہاکہ رات کو نو بجے کھیتوں میں قتل کیا گیا، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا ہمیں بچپن سے بتایا جاتا ہے کہ برے کام کا برا نتیجہ ہوتا ہے، اگر مقتول نے برا کام کیا تھا تو یہی انجام ہونا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا جب بیٹے کی لاش سامنے پڑی تھی تو باپ کے دل می تو اللہ کا ڈر ہونا چاہیے تھا، جھوٹ بول کر تین لوگوں کو جیل بھجوا دیا، کافی سالوں بعد معلوم ہوا کہ وہ لوگ ملوث ہی نہیں تھے، اللہ کی رضا کےلئے سچ بولنا چاہیے۔

مزید پڑھیں : اللہ کے لیے سچے گواہ بن جاؤ، چیف جسٹس

عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے محمد افضل عرف ننی کو بری کر دیا، عدالت نے محمد افضل عرف ننی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا۔

یاد رہے کہ 2003 میں گجرانوالہ کے گاو¿ں رکھ گروکھی میں واقعہ پیش آیا تھا ، ٹرائل کورٹ نے محمد افضل عرف ننی کو سزائے موت کی سزا دی تھی۔ہائیکورٹ نے محمد افضل عرف ننی کی سزا کم کرکے عمر قید کر دی تھی۔

خیال رہے سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم ممتاز کو بری کردیا، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے ملزم ممتاز کو بری کرتے ہوئے جھوٹی گواہی پر اہم ریمارکس میں کہا تھا نہ اسلام جھوٹ کی اجازت دیتا ہے اور نہ قانون تو عدالت کیسےجھوٹ کی اجازت دے سکتی ہے، اللہ کے لئے سچے گواہ بن جاؤ چاہے والدین، بہن بھائیوں یا رشتے داروں کے خلاف گواہی کیوں نا دینا پڑے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں