The news is by your side.

Advertisement

عوامی نمائندوں کا ایوان ہو یا کرکٹ کا میدان، کسی ادارے سے اچھی خبریں نہیں آرہیں: چیف جسٹس

ملک کے تمام اضلاع میں چائلڈ کورٹس بنا رہے ہیں، عملہ سادہ لباس میں ہوگا تاکہ بچے خوف زدہ نہ ہوں

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کا ایوان ہو یا کرکٹ کا میدان، کسی بھی ادارے سے اچھی خبریں نہیں آ رہیں، جب ٹی وی کھولیں شور شرابا ہی سنائی دیتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ماڈل کورٹس کے ججز کے لیے فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ معیشت کی صورت حال سے بھی مایوسی جھلکتی ہے، اچھی خبریں صرف عدلیہ سے مل رہی ہیں، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جرائم کے خاتمے کے لیے نظام بہتر بنا رہے ہیں۔

چھ اضلاع میں قتل اور منشیات کے مقدمات کا خاتمہ ہو چکا، آیندہ ماہ 10 اضلاع میں قتل، منشیات کے مقدمات ختم ہوں گے۔

چیف جسٹس

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کہا جا رہا ہے کہ معیشت آئی سی یو میں ہے، معیشت کی ابتری کی وجہ کون ہے یہ الگ بات ہے، قائد ایوان کو نہ قائد حزب اختلاف کو بات کرنے دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں معمولی جرائم میں جو جیل جاتا ہے اس کے بیوی بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، یہ کبھی نہیں سوچا گیا قیدی کے بیوی بچوں کا خیال کون رکھے گا، کمانے والا جیل چلا جائے تو اہل خانہ پر کیا گزرے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے پہلے زیر التوا فوجداری مقدمات ختم کر کے معاشرے کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا، صرف 48 دنوں میں 5 ہزار سے زائد ٹرائل مکمل ہوئے، 6 اضلاع میں قتل اور منشیات کے مقدمات کا خاتمہ ہو چکا، آیندہ ماہ 10 اضلاع میں قتل، منشیات کے مقدمات ختم ہوں گے۔

آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پالیسی ساز کمیٹی 24 جون کو سول اور فیملی ماڈل کورٹس کا فیصلہ کرے گی، کرایہ داری اور مجسٹریٹ ماڈل کورٹس بھی قائم کریں گے، جنس کی بنیاد پر تشدد اور کم عمر ملزمان کے لیے نئی عدالتیں بنا رہے ہیں، 116 اضلاع میں خواتین پر تشدد کے خلاف عدالتیں بنا رہے ہیں، اب خواتین کو آزادی ہوگی کہ ان عدالتوں میں کھل کر بات کریں، خصوصی عدالتیں بنانے کا مقصد خواتین اور بچوں کو بہتر ماحول دینا ہے۔

ایک سو سولہ اضلاع میں خواتین پر تشدد کے خلاف عدالتیں بنا رہے ہیں، خواتین کو آزادی ہوگی کہ ان عدالتوں میں کھل کر بات کریں۔

آصف سعید کھوسہ

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ہر ضلع میں فوجداری مقدمات میں ایک جج کا اضافہ کیا جائے گا، ملک کے تمام اضلاع میں چائلڈ کورٹس بنائے جائیں گے، چائلڈ کورٹس میں عملہ سادہ لباس میں ہوگا تاکہ بچے خوف زدہ نہ ہوں، بچوں کی عدالت میں گھر جیسا ماحول ہوگا، کوئی یونی فارم نہیں پہنے گا۔

انھوں نے کہا کہ ای کورٹس کے ذریعے مقدمات سنے، کوئی کیس ملتوی نہیں ہوا، ہر پیشی پر سائلین کو کراچی سے وکیل لانا انتہائی مہنگا پڑتا تھا، کوئٹہ سے ای کورٹ سسٹم چاہتا تھا لیکن تکنیکی مسئلہ ہوا، اب جولائی کے آخر تک کوئٹہ سے بھی ای کورٹ سسٹم شروع ہوگا، سپریم کورٹ میں جدید ترین ریسرچ سسٹم قائم کیا جا رہا ہے، 3 سپریم کورٹ ججز اور 7 ریسرچرز ٹریننگ کے لیے امریکا جائیں گے، ملک بھر کے ججز ریسرچ سینٹر سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تمام عدالتی فیصلے آرٹیفشل انٹیلی جنس سسٹم میں فیڈ کریں گے، یہ سسٹم حقایق کے مطابق فیصلے میں مدد کرے گا، سسٹم ججز کو بتائے گا کہ ماضی میں ان حقایق پر کیا فیصلے ہوئے۔

آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ججز نے جذبے سے ڈیلیور کرنا شروع کر دیا ہے، قرآن میں ارشاد ہے اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، خالق کاینات ججز سے محبت کرنے لگے تو کبھی تکلیف نہیں ہوگی، نہ خوف ہوگا نہ ڈر۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں