The news is by your side.

Advertisement

شرح آبادی میں اضافہ بم ہے، کیا ملک اس قابل ہے، ایک گھر میں سات بچے پیدا ہوں، چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ملکی آبادی کی شرح میں اضافے کو بم قرار دے دیا، چیف جسٹس نے کہا کیا ملک اس قابل ہے، ایک گھر میں سات بچے پیدا ہوں، شرح آبادی پر کنٹرول کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملک میں بڑھتی آبادی کے خلاف مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں آبادی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، ہم کس چکر میں پھنس گئے ہیں، بچے کم پیدا کرنا اسلام کے خلاف ہے، کیا ملک اس قابل ہے، ایک گھر میں سات بچے پیدا ہوں؟ کیا ملک میں اتنےوسائل ہیں؟ شرح آبادی پر کنٹرول کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ عوامی آگاہی مہم بالکل صفر ہے، لوگ مرغیوں کے دڑبے میں بھی اضافی جگہ بناتے ہیں، چین نے اپنی آبادی کنٹرول کی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا ملک میں آبادی کی شرح میں اضافہ بم ہے، حکومت نے آبادی کی شرح پر قابو پانے کے لیے کتنا پیسہ استعمال کیا؟ ایوب خان دور میں بھی آبادی کی شرح
میں کنٹرول کے لیے پالیسی تھی، اللہ کے نام پر پاکستان کو قائم کیا گیا، اس ریاست کو چلنا تو ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہم اپنے شہریوں کو بہتر مستقبل کی کوئی امید نہیں دے رہے، اس مسئلے پر ریاست کو ذمہ داری لینا ہوگی۔

سرکاری وکلاء نے بتایا آبادی کنٹرول کرنے کا قانون نہیں، پالیسی موجود ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا جب پالیسی بنی تو اس کے کیا نتائج نکلے،پالیسی بنا کر اس پر عمل کرایا جاتا ہے، نتائج لیےجاتے ہیں، جس پر جسٹس اعجاز نے کہا کہ آبادی کی بڑھتی صورتحال پرکسی نے کچھ کام نہیں کیا تو چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 2002 کی پالیسی کے بعد لگتا ہے کوئی محکمہ مل کر نہیں بیٹھا، کن ہاتھوں میں یہ ریاست چلی گئی ہے۔

چیف سیکریٹری کے پی نے بتایا کہ پاپولیشن سینٹرز کی کوئی کارکردگی نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں 2100 فلاحی مراکز کی کارکردگی کے بارے میں بتائیں، فلاحی مراکز میں چائے کے کپ پر گپ شپ چلتی ہوگی، ملازمین ڈیوٹی کے اختتام کے لیے گھڑی کی طرف دیکھتے رہے ہوں گے، آبادی کے حوالے سے معاملہ قومی فریضہ ہے۔

ڈپٹی سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ راولپنڈی میں 70 سے 80 فلاحی مراکز ہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آبادی کنٹرول سے متعلق تمام منصوبے کاغذوں کی حد تک ہیں، ابھی آپ اپنے موبائل فونز بند کریں، میں فلاحی مراکز میں خود جاکر وہاں سہولتیں دیکھ لیتا ہوں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا پنجاب حکومت بتائے فلاحی مراکز چلانے کے لیے کتنا بجٹ رکھا؟ ڈپٹی سیکرٹری پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ سالانہ 1.459 ملین  روپے ملتے ہیں، 3.6 بلین روپے پی ایس ڈی پی سے آتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پیدا ہونے والے بچوں کے لیے پانی،خوراک جیسے وسائل نہیں، ہم نے پورے ملک کے لیے یکساں پالیسی بنانی ہے، شرح آبادی پر  کنٹرول کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، جس پر سیکرٹری صحت کے پی نے بتایا کہ پاکستان نے ابھی تک آبادی پالیسی تشکیل ہی نہیں دی۔

چیف جسٹس نے حکم دیا کہ فریقین مل بیٹھ کر خاکہ بنائیں، ہمیں چیمبر یا عدالت میں پیش کریں کہ پالیسی پر عملدرآمد کیسے کرناہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں