The news is by your side.

Advertisement

میری خواہش ہے جو معاملات اٹھائے ہیں، ختم کرکے جاؤں،چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے جو معاملات اٹھائے ہیں، ختم کرکے جاؤں، بعدمیں نعرےلگاتے پھریں گے باتیں کرکے چلاگیا کیا کچھ نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان  جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، سیکریٹری صحت سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے وزارت صحت کے حکام سے قیمتوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کی تاہم سیکریٹری صحت نے عبوری رپورٹ عدالت میں  پیش کی اور کہا کہ حکم کے مطابق1معاملات پر کام کرنا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اے کٹیگری میں 739 کیسز تھے، جن میں سے 710 کیسز کا جائزہ لیا گیا اور 21 کیسز کمپنی کی درخواست پر کمیٹی اجلاس میں بھیجے گئے، کٹیگری بی میں 25کیسزتھےجن میں سے23 کاجائزہ لیاگیا، کیسزکمپنی کی درخواست پرکمیٹی کےاجلاس میں بھیجےگئے۔

رپورٹ کے مطابق کٹیگری سی میں 55 کیسز تھے، جن میں 32 کا جائزہ لیا گیا جبکہ ڈی کٹیگری میں 410 کیسز ہیں اور رواں ماہ میں ان کا جائزہ لے لیا جائے گا، فکس پرائس سے متعلق390کیسزکابھی اپریل میں جائزہ لیا جائے گا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم نے کسی کو بھی کسی اور فورم پر جانے کی اجازت نہیں دینی، مفادعامہ کےجن معاملات میں ہاتھ ڈالا حل کریں گے، کسی کا اپیل کا حق متاثر ہوتا ہے تو ہوتا رہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ہدایت کی کہ مئی کےپہلےہفتےمیں مکمل رپورٹ پیش کی جائے، رپورٹ دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

انھوں نے مزید ریمارکس میں کہا کہ ٹیکس لگانے یا ہٹانےکافیصلہ پارلیمنٹ نے کرناہے، ٹیکس کامعاملہ عدالت کےدائرہ اختیارمیں نہیں آتا، عدالت نے پہلے سے بنائےقوانین کےمطابق معاملات کودیکھناہے، معاملے پرکوئی مہم چلارہےہیں توپارلیمنٹرینزسےرابطہ کریں۔

چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ میری خواہش ہے جو معاملات اٹھائے ہیں ختم کرکے جاؤں، بعدمیں نعرے لگاتے پھریں گے باتیں کر کے چلا گیا کیا کچھ نہیں، آپ نےمفادعامہ کودیکھناہےکلائنٹ کونہیں، آپ نےمیرےساتھ مل کرانصاف کرناہے۔

چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت15مئی تک ملتوی کرتے ہوئےحکام سے قیمتوں میں کمی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی اور کہا کہ 15 مئی کورات دن بیٹھناپڑا، معاملہ پوراسن کراٹھیں گے، واضح کردوں کوئی التوانہیں دیا جائےگا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں