آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی، چیف جسٹس نے عوام اور حکومت کو خبردار کر دیا
The news is by your side.

Advertisement

آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی، چیف جسٹس نے عوام اور حکومت کو خبردار کر دیا

کیس کا فیصلہ کل سنائیں گے، چیف جسٹس

اسلام آباد:چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑھتی آبادی پر عوام اور حکومت کو خبردار کیا ہے کہ آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی، ایک وقت آئے گا وسائل اور طلب میں خلاپر کرنا مشکل ہو جائےگا،کیس کا فیصلہ کل سنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں آبادی میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سیکریٹری صحت  نے  عدالت کو بتایا کہ حکومت نے آبادی کے کنٹرول کے دو ہدف مقرر کرلیے ہیں،ایک ہدف دو ہزار پچیس اور دوسرا دو ہزار تیس تک حاصل کرلیا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس نے استفسار کیا آبادی کے حوالے سے سروے کس حد تک مستند ہوتے ہیں؟تھرڈ پارٹی سروے کس سے کرایا جاتا ہے؟سروے کے  اعداد و  شمار  مستند نہیں ہوں گے تو کوئی بھی پلان بیکار ہے، جس پر سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ ہماری آبادی بڑھنے کی موجودہ شرح دو اعشاریہ چار  ہے، دو  ہزار  پچیس تک آبادی بڑھنے کی شرح ایک اعشاریہ پانچ فیصدہو جائے گی۔

ایک وقت آئے گا وسائل اور طلب میں خلا پر کرنا مشکل ہو جائے گا

چیف جسٹس

جسٹس ثاقب نثار نے کہا حکومت نے ٹاسک فورس کی رپورٹ پر عمل نہ کیاتوتباہی ہو گی،  آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی،حکومت کو یہ بات بتا دیں، آبادی کے معاملے  پر  عوام اور حکومت دونوں کو خبردار کر رہا ہوں، ایک وقت آئے گا وسائل اور طلب میں خلا پر کرنا مشکل ہو جائے گا۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ آبادی پرقابوپانےکےمعاملے پرعدالت نظررکھےگی، ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملے کی نگرانی کریں گے، ٹاسک فورس کی سفارشات کو حکومت نے تسلیم کیا تھا۔

مزید پڑھیں : جب تک آبادی کم نہیں ہوگی، مشکلات کم نہیں ہوں گی‘ چیف جسٹس

جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا 2025 تک آبادی بڑھنےکی شرح کیاہوگی؟ جس پرسیکریٹری صحت نے بتایا 2025 تک آبادی بڑھنے کی شرح ایک اعشاریہ 5 فیصدہو جائے گی، 2030 میں آبادی بڑھنے کی شرح ایک اعشاریہ 4 فیصدہو جائے گی، مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات تسلیم کر لی گئی ہیں۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا آبادی کنٹرول کے معاملے پر فیصلہ لکھ چکے ہیں، کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

یاد رہے گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ پاکستان کے ذرائع کم ہو رہے ہیں، زرعی زمین کم ہورہی ہے، جب تک آبادی کم نہیں ہوگی، مشکلات کم نہیں ہوں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں