The news is by your side.

Advertisement

درخواست ہے جو لوگ صاحب حیثیت ہیں قرض واپس کریں،چیف جسٹس

اسلام آباد : چیف جسٹس ثاقب نثار نے درخواست کی جو لوگ صاحب حیثیت ہیں قرض واپس کریں، چاہتے ہیں اس معاملے کو جلد نمٹائیں، اس کے بعد عدالت پر انتخابی عزرداریوں کا بوجھ آجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں بینکوں سےاربوں کے قرضے معاف کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست ہے جو لوگ صاحب حیثیت ہیں قرض واپس کریں، چاہتے ہیں اس معاملے کو جلد نمٹائیں، اس کے بعد عدالت پر  انتخابی عزرداریوں کا بوجھ آجائے گا۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس میں کہا کہ ہم نے قرضوں کی معافی کیلئے 2 فارمولے تشکیل دیےہیں، اے مائنس بی ضرب 75فیصد کے فارمولے پر قرضے واپس کریں، قرضے سے 75 فیصد رقم کی واپسی بہترین فارمولہ ہے۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب پتہ چلامیں جسٹس منیب کوسپریم کورٹ کیوں لے کر آیا، بہت سارے لوگوں نے جسٹس منیب کی تقرری پر  تنقید کی، بار کونسلز نے تقرری کے خلاف قراردادیں پاس کیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ سمجھ آجانی چاہیے جسٹس منیب اختر کتنے اعلیٰ پائے کے جج ہیں، فخر ہے جسٹس منیب اختر میری سفارش پر سپریم کورٹ آئے، کسی کو فارمولا اے پسند نہیں تو فارمولابی کے تحت رقم دے سکتا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جنہوں نے  پیسے ادا کر دیے، انہیں سہولت ملنی چاہیے یہ بہترانصاف ہوگا،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انشااللہ قرضے واپس کرنے سے ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔

چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سمیت تمام وکلا کو تحریری تجاویز جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ 4جولائی کو خصوصی بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا۔

گذشتہ سماعت میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے قرضہ معافی کیس میں 222 افراد کو تین ماہ میں واجب الادا قرض کا 75 فیصد واپس کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ سب کے لیے ایک ہی حکم جاری کریں گے اور جس نے بھی پیسہ کھایا ہے، واپس کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل سماعت میں بھی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے حوالے کردیں گے اور قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں