The news is by your side.

Advertisement

نجی میڈیکل کالجز کیس، چیف جسٹس کی سماعت میں پیش نہ ہونے والوں کو وارننگ

لاہور : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ آئندہ چار ہفتوں میں نجی میڈیکل کالجز کے حوالے سے اقدامات اور پالیسی کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو جائیں گے جبکہ وارننگ دی کہ سماعت میں پیش نہ ہونے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے ڈاکٹر عاصم کے وکیل کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکیل پیش نہ ہوئے توڈاکٹرعاصم کانام ای سی ایل میں ڈال دینگے، میڈیاپرڈاکٹرعاصم چنگےبھلےنظرآتےہیں، عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو ہاتھ میں لاٹھی پکڑ لیتے ہیں۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اندھابانٹےریوڑیاں،اپنےپاس ہی آئیں، ہریونیورسٹی نےاپنانظام تعلیم بنالیاہے، جس کاجو جی چاہتا ہے وہ کررہا ہے، سمجھ نہیں آتی اتنی زیادہ پرائیویٹ یونیورسٹیاں کیسے بن گئیں۔

میڈیکل کالجز کے پرنسپلز کے پیش نہ ہونے پر چیف جسٹس کا اظہاربرہمی کیا اور کہا کہ میں روزانہ کیسزکیلئےاسلام آبادلاہورآتاجاتارہتاہوں، سماعت میں پیش نہ ہونے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی، میڈیکل کالجزکےافسران کوبتایاجائے وہ ملک میں واپس آجائیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ہمارا مقصد میڈیکل کالجزمیں کمی کوپوراکرناہے، انصاف کرناہے اور ڈاکٹرز اور اداروں کا وقار بھی قائم رکھناہے۔

بعد ازان ڈاکٹر عاصم کے وکیل سردار لطیف خان کھوسہ عدالت میں پیش ہوئے۔


مزید پڑھیں : کوئی نجی میڈیکل کالج 6 لاکھ 45 ہزار سے زائد فیس وصول نہیں کرے گا، چیف جسٹس


دوران سماعت چیف جسٹس نے قرار دیا کہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے حوالے سے قانون سازی کے لیے ڈاکٹر عاصم کی ضرورت ہو گی، ڈاکٹرعاصم کو بتا دیں کہ بلانے پر وہ عدالت میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس نے مزید قرار دیا کہ آئندہ چار ہفتوں میں نجی میڈیکل کالجز کے حوالے سے اقدامات اور پالیسی کے خدوخال واضح ہونا شروع ہو جائیں گے، خواہش ہے کہ اس حوالے سے قانون سازی سے قبل عوامی بحث کروائی جائے اور رائے لی جائے۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ایک سینئر ڈاکٹر نے انہیں بتایا ہے کہ نہیں معلوم 10 سال بعد علاج کرنے کے لیے کوئی ڈاکٹر موجود ہو گا بھی یا نہیں، ہمارے ملک میں ڈاکٹرز کی یہ صورتحال ہو گئی ہے کہ سینئر ڈاکٹر بھی پریشان ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں