The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیسز کی سماعت

لاہور : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ماحولیاتی آلودگی کےبڑھنے ، پانی کی آلودگی اور اسپتالوں کےفضلہ جات ٹھکانےنہ لگانے سے متعلق کیسز کی سماعت پر چیف جسٹس نے چھ مقامات پرآلودگی جانچ کر رپورٹ طلب کرلی جبکہ  سیکرٹری ماحولیات کو وارننگ دیدی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹسز کی سماعت کی، لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑھنے پر ازخودنوٹس کیس کی سماعت میں چیف جسٹس نے حکم دیا کہ لاہور کے 6 مقامات پر آلودگی جانچ کر کل تک رپورٹ پیش کی جائے، تین مقامات لاہور کے اطراف اور تین مقامات لاہور کے اندر سے منتخب کر کے آلودگی جانچی جائے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی حد کاصحیح اندازہ لگاکررپورٹ پیش کریں، کاغذی کارروائی پوری نہیں کرنے دی جائےگی، جھوٹے اعداد وشمار پیش کیے تو سخت کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ محکمہ ماحولیات حکومت کا خدمتگار بنا ہوا ہے، کل صبح تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔

لاہور کے اسپتالوں کےفضلہ جات ٹھکانےنہ لگانے پر ازخودنوٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ہسپتالوں کے فضلہ جات ٹھکانے نہ لگانے پر ازخود نوٹس لے لیا، عدالت نے کل تک سیکرٹری صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے سیکریٹری ماحولیات پر اظہاربرہمی کیا، چیف جسٹس نے سیکریٹری ماحولیات سے استفسار کیا کہ کیاآپ کوپتہ ہےکہ ماحولیات کا حال کتنا برا ہے، محکمہ ماحولیات سب سے نکما محکمہ ہے، کیا اورنج ٹرین کے این اوسی آپ نے جاری کیے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب پنجاب حکومت نے کوئی منصوبہ بنانا ہو تو محکمہ سب اچھا کی رپورٹ دیتا ہے، محکمہ ماحولیات کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی خوفناک حد تک بڑھ گئی، جلد وہ وقت آنے والا ہے جب ماسک کے بغیر کوئی چل پھر نہیں سکے گا، آپ سیکرٹری ماحولیات ہیں، کیا آپ کے پاس آلودگی چیک کرنے والا آلہ موجود ہے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری ماحولیات کو تنبیہ کیا کہ یہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے، عوام کی صحت سے کھیلا جا رہا ہے، اگر اعداد و شمار اور رپورٹ میں ابہام ہوا تو معطل کر دیا جائے گا۔

پانی کی آلودگی پرازخودنوٹس کیس

پانی کی آلودگی پرازخودنوٹس کیس کی سماعت کے دوران چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سےپانی کےنمونوں کی رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ ایک سو انتالیس ٹیوب ویلوز کے پانی کےنمونوں سےمتعلق ہے۔

ڈی جی پنجاب فوڈاتھارٹی نےچوبیس کمپنیوں سےمتعلق رپورٹ جمع کرائی، ۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ 5 ٹیوب ویلوں کے نمونے درست نہیں آئے، دوبارہ ٹیسٹ کرا رہے ہیں، ٹیوب ویلوں کے پانی میں آرسینک کی مقدار مضر صحت نہیں ہے۔

ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے بھی 24 کمپنیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائی، جس میں بتایا گیا کہ مضر صحت ہونے پر 24 پانی کمپنیاں سربمہر کر دی گئی ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے حکم دیا کہ جب تک عدالت اجازت نہ دے یہ 24 کمپنیاں کھلنی نہیں چاہیئیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں