قسم خدا کی میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، چیف جسٹسCJP hearing
The news is by your side.

Advertisement

قسم خدا کی میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، کسی بھی طریقے سے ٹیسٹ کرلیں ہماری نیت صاف ہے، چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے پراز خودنوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ قسم خدا کی میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، میں صرف یہ کہتا ہوں لوگوں کو 2وقت کی روٹی ملے، لوگوں کوبیماری سے لڑنے کےلئے دوائی ملے ، کسی بھی طریقے سے ٹیسٹ کرلیں ہماری نیت صاف ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں 3رکنی بینچ نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے پراز خودنوٹس کیس کی سماعت کی، دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کمپنیزکوقیمتوں میں اضافے کیلئےکس فورم سےرجوع کرنےکاحق تھا؟ ڈریپ میں ابھی تک درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔

نمائندہ ڈریپ نے بتایا کہ 90روز میں درخواست پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ن کچھ کمپنیوں نےمکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹاف نےایک ماہ میں ساڑھے 3لاکھ ہائیکورٹ فائلوں کاجائزہ لیا، ادویات کی قیمتوں کا تعین سپریم کورٹ نے نہیں کرنا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ قیمتوں میں توازن ہونا چاہئے، کوئی شخص نقصان کیلئےکاروبار نہیں کرتا، خدمت خلق کاجذبہ ڈاکٹر میں ہونا چاہئے، آپس میں بیٹھ کر قیمتوں کا تعین کریں، عدالتوں کو بیچ میں نہ لائیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ڈریپ کو کہہ دیتے ہیں درخواستوں کوسن کر فیصلہ کرے، ہیپاٹائٹس کی دوا6ہزارکےبجائے25 ہزارمیں بیچی جارہی ہے، سب سے بڑا قصور ڈریپ کا ہے، راتوں کو بھی بیٹھ کر دوا ساز کمپنیزکی درخواستوں کا جائزہ لیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ادویات سازکمپنیوں کو معقول معاوضہ ملنا چاہئے، نہیں چاہتے ادویہ سازکمپنیزکودیوارسے لگا کر مفت دوائیاں بیچی جائیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ کیاآپ 2002کی قیمتوں میں 94 فیصد اضافہ چاہتے ہیں؟


مزید پڑھیں : جان بچانے والی 120ادویات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ


چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قسم خدا کی میرا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، میں صرف یہ کہتا ہوں لوگوں کو 2وقت کی روٹی ملے، لوگوں کو بیماری سے لڑنے کےلئے دوائی ملے، حالات ایسے ہیں کچھ اورکرنے کودل ہی نہیں کرتا، سیاسی مقدمےکوہاتھ لگانانہیں چاہتا مگرمجبوری بن گئی ہے، کسی بھی طریقے سے ٹیسٹ کرلیں ہماری نیت صاف ہے۔

دوران سماعت جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا میں سمجھتاہوں بغیر منافع کےکوئی سرمایہ کاری نہیں کرےگا، منافع معقول ہونا چاہئے، ایک گولی کی لاگت5روپے ہے تو اسے50روپے میں مت بیچیں، جو گولی 5روپے کی ہے تو اسے ساڑھے 7روپے کی بیچیں۔

چیف جسٹس نے تمام ادویات ساز کمپنیوں کو مشترکہ لائحہ عمل طےکرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ نکات بناکرکل آجائیں فیصلہ کردیں گے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں