چیف جسٹس نے امل ہلاکت کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی
The news is by your side.

Advertisement

امل ہلاکت کیس: سپریم کورٹ نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد :چیف جسٹس نے امل ہلاکت کیس کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی اور کہا ہنستی کھیلتی بچی والدین کے ہاتھوں سے چلی گئی، دنیا کا کوئی معاوضہ والدین کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتا، بغیرتربیت پولیس کوایس ایم جی پکڑائی گئی، لگتا ہے پورا برسٹ مارا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ امل ہلاکت از خود نوٹس کیس کی سماعت کررہا ہے ، سماعت شروع ہوئی تو امل کی والدہ نے بیان میں بتایا کہ امل زخمی ہوئی تو اسپتال لے جانے کیلئے کوئی ایمبولینس نہیں تھی ، اسپتال میں سہولیات نہیں تھی ، بر وقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث امل جانبر نہ ہوسکی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ انتہائی افسوس ناک اورچونکا دینے والا واقعہ ہے، اسپتال کا مالک کون ہے؟ کہاں ہے آج کیوں نہیں آیا؟ ہم واقعے کی تحقیقات کرائیں گے، پولیس نہیں بلکہ ایف آئی اے یا آئی بی سے تحقیقات کرائیں گے۔

بر وقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث امل جانبر نہ ہوسکی، امل کی والدہ

امل کی والدہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کا شکریہ ادا کرتے ہیں، ہم کراچی کے مرکزی علاقے سے گزر رہے تھے کہ  ڈکیت نے گاڑی کے شیشے  پردستک دے کر موبائل چھینا، سگنل کھلا توفائرنگ شروع ہوگئی اور گولی ونڈ اسکرین کو توڑ کر ہماری بیٹی امل کو لگی، 10 سال کی امل مبینہ طورپرپولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوئی۔

امل کے خاندان کے وکیل  کا کہنا تھا کہ والدین کو معاوضے کی ادائیگی سے حل نہیں نکلے گا، پولیس کی طرف سے کلچربن گیا ہے، ان کی تربیت ناکافی ہے، پولیس کی غفلت سے دو نتائج نکلے ہیں اور اسپتال کی تربیت  بھی ناکافی ہے۔

وکیل کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے سرکاری اسپتالوں کے لئے قواعد و ضوابط بنائے ہیں ، پرائیویٹ اسپتالوں میں زخمی کو طبی امداد دینے کے لیے کوئی ’ایس او پی‘ نہیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ علم نہیں ڈکیتوں پرفائرنگ کرنے والا پروفیشنل تھا یا نہیں، ایسے واقعات کے سدباب کے لیے اصول وضع کرنے ہوں گے۔

جسٹس ثاقب نثار کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کئی اسپتالوں کے بارے میں لوگ شکایتیں کرتے ہیں، نجی اسپتالوں والے بے حس ہوچکےہیں، آج بھی اسپتال کا مالک نہیں آیا، تنخواہ دار ملازم بھیج دیا۔

وکیل نے کہا کہ نیشنل میڈیکل سینٹرایک بڑا اسپتال ہے،مگرافسوس ان کے پاس ایمبولینس بھی نہیں تھی، جس پر چیف جسٹس نے کہا مجرمانہ غفلت پر کمیٹی بناتے ہیں، جو واقعے سے متعلق تفتیش کرے گی۔

فیصل صدیقی نے مزید کہا سرکاری اسپتالوں کے لیے قوانین ہیں،نجی اسپتالوں کیلئے نہیں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئی جی کلیم امام کے جاتے ہی ایسا واقعہ ہوگیا۔

بغیر تربیت کے پولیس والے کو ایس ایم جی رائفل پکڑائی گئی، چیف جسٹس

ازخودنوٹس پر سماعت میں پولیس نے بتایا کہ گولی سب سے پہلے پولیس والے کو لگی، جس پر جسٹس اعجازالحسن نے کہا مجرم پرگولی چلائی جائےتوکہیں بھی لگ سکتی ہے، ایک بارگولی چلائی گئی یا مسلسل فائرنگ کی گئی، جس پر پولیس کی جانب سے کہا گیا سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق پولیس اہلکار نے ہوائی فائرنگ کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ایس ایم جی رائفل سےفائرنگ ہوئی، لگتا ہے پولیس نے پورا برسٹ مارا ہے، اسٹریٹ کرائم روکنے کیلئے اتنا بڑا ہتھیارنہیں دینا چاہئے، بغیرتربیت کے پولیس والے کو ایس ایم جی رائفل پکڑائی گئی۔

والدہ امل نے کہا کہ پولیس نے خود تسلیم کیا کہ انہیں تربیت نہیں ملی، جس پر پولیس نے موقف اختیارکیا کہ تربیت کا فقدان پہلے ہوسکتا تھا، اب پولیس کوفوج تربیت دے رہی ہے، ہم مانتے ہیں کہ پولیس نے غفلت کا مظاہرہ کیا، گولی سب سے پہلے ملزم کو لگی۔

عدالت  کے روبرو اسپتال کے منتظم نے بتایا کہ بچی کو سر کے پچھلے حصے میں گولی لگی، جس کا دنیا میں کہیں علاج ممکن نہیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کچھ تو ایسا کرتے کہ والدین کوتسلی ہوتی کہ بچی کا بروقت علاج ہوا، کچھ چیزیں اللہ کے اختیار میں ہوتی ہیں، اسپتال کوطبی امداد ہر صورت دینی چاہئے، آپ کے لیےاسپتال صرف کمانے کا ذریعہ ہے۔

 ہنستی کھیلتی بچی والدین کے ہاتھوں سےچلی گئی، دنیا کا کوئی معاوضہ والدین کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتا، چیف جسٹس

جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیئے ایمبولینس والوں کا تو ایک مافیا ہے، جو پیسہ کماتے ہیں، گولی لگے شخص کے لیے ایک ایک سیکنڈ اہم ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہنستی کھیلتی بچی والدین کے ہاتھوں سےچلی گئی، دنیا کا کوئی معاوضہ والدین کے دکھ کا مداوا نہیں کرسکتا، ہمارا مشن ہونا چاہیے کہ اس طرح مزید کسی کی جان نہ جائے۔

جسٹس ثاقب نثار نے مزید کہا کہ جب تک سپریم کورٹ ایکشن نہ لے ملک میں کوئی کام نہیں ہوتا، چترال جانا تھا، میری آمد سے قبل صفائیاں شروع ہوگئیں، اسپتال میں 2 ڈاکٹر ادھار منگوائے گئے، کے پی کو ماڈل کہا جاتا ہے مگر میں اس بات کونہیں مانتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے جوبورڈ ہم نے توڑے کے پی میں وہی پھر بنالیے گئے، لوگ ملک سے باہر رہتے ہیں، واپس آکربورڈ بحال کرلیتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ امل واقعےکی تحقیقات کرائیں گے، سندھ پولیس کی رپورٹ مل گئی، واقعےکی تحقیقات کےلیے کمیٹی بنا رہےہیں، اٹارنی جنرل سے مل کر فریقین کمیٹی کا سربراہ مقرر کریں اور کمیٹی مل بیٹھ کر ہمیں سفارشات دے۔

والدہ امل کا کہنا تھا کہ ہم عدالت کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا ’بیٹامجھےشرمندہ مت کریں، چھوٹی بیٹی کا بہت خیال رکھیں، وہ اپنی بہن کو یاد کرے گی‘۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں ازخودنوٹس پر سماعت میں نجی اسپتال کے مالک کو عدالت نے طلب کرتے ہوئے 2دن کے لیے ملتوی کردی۔

امل کی والدہ نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں، ہمیں اسپتالوں اور دیگر انتظامات کو ٹھیک کرنا چاہیے، سپریم کورٹ نے واقعے سے متعلق کمیٹی بنانے کا کہا ہے، سپریم کورٹ میں کیس پر پرسوں مزید کارروائی ہوگی۔

مزید پڑھیں : کراچی: دس سالہ بچی کی ہلاکت پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

والدہ امل کا کہنا تھا کہ پبلک مقامات پر پولیس کو ہتھیار چلانےکی ٹریننگ دینی چاہیے، ہمارامؤقف ہے پولیس کی تربیت ہونی چاہیے، پولیس کو پتہ ہونا چاہیے کہ اسلحہ کس طرح استعمال کرناہے، ہمیں نہیں علم کہ پولیس کوکونسااسلحہ استعمال کرناچاہیے، چاہتے ہیں جو خامیاں ہیں انہیں دور کیا جائے۔

والد نے کہا نوٹس لینے پر چیف جسٹس کے شکر گزار ہیں، امل تو چلی گئی اب واپس نہیں آئے گی ، ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے قانون بنایا جائے، چیف جسٹس نے انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے 19 ستمبر کو شہر قائد میں فائرنگ سے دس سالہ بچی امل کی ہلاکت پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل سندھ ، آئی جی سندھ ، سیکریٹری ہیلتھ اور ایڈمنسٹریٹر نیشنل میڈیکل سینٹر کو نوٹس جاری کیا تھا۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 13 اگست کی شب کراچی میں ڈیفنس موڑ کے قریب اختر کالونی سگنل پر ایک مبینہ پولیس مقابلے ہوا تھا، مذکورہ مقابلے میں ایک مبینہ ملزم کے ساتھ ساتھ جائے وقوع پرموجود گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھی 10 سالہ بچی امل بھی جاں بحق ہوگئی تھی۔

بعد ازاں میڈیا کی جانب سے اس بچی کی ڈکیتی کے دوران زخمی ہونے کے بعد نجی اسپتال اورایمبولینس سروس کی غفلت اور لا پرواہی کا معاملہ اٹھایا گیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں