The news is by your side.

Advertisement

الیکشن مقررہ وقت پرہوں گے، مارشل لاء نہ روک سکا تو استعفی دے کر گھر چلا جاؤں گا، چیف جسٹس

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہوں گے،  آئین میں مارشل لاء کی گنجائش نہیں، میں مارشل لاء نہ روک سکا تو استعفی دے کر گھر چلا جاؤں گا، قوم سے وعدہ ہےآئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریب عاصمہ جہانگیرکوخراج عقیدت پیش کرنےکیلئےمنعقدکی گئی ہے، عاصمہ جہانگیر کوہمیشہ بہن سمجھتاتھا، بہن کوکبھی ریلیف نہیں دیتاتھا، اس کا انہوں نے گلا بھی کیا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیربہن ہونےکے طور پر اچھا مشورہ دیتی تھیں، عاصمہ جہانگیر دلیرخاتون تھیں،سچ کی آواز پر ہمیشہ لبیک کہا، عاصمہ جہانگیرکوانسانی حقوق سےمتعلق جلسوں میں متحرک دیکھا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عاصمہ جہانگیربڑی سچی خاتون تھیں، عاصمہ جہانگیرکی ملک کےلیے خدمات ناقابل فراموش ہیں، عاصمہ جہانگیرجیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔


مزید پڑھیں : ایگزیکٹوکے کاموں میں مداخلت کا کوئی شوق نہیں: چیف جسٹس


ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں تاخیرنہیں ہوگی،الیکشن آئین کے مطابق وقت پر ہوں گے، الیکشن کے التواکی آئین پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں، کسی بات کاجواب نہ دوں تودوست خود سےمطلب نکال لیتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ میرےہوتے ہوئےآئین سےانحراف نہیں ہوگا، آئین میں مارشل لا کی گنجائش نہیں، میں مارشل لانہ روک سکا تو استعفی دے کر گھر چلا جاؤں گا، کسی بھی مارشل لاکو روکنے کی پوری کوشش کروں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جوڈیشل مارشل لاصرف لفظی سوچ ہے ،اس پرہنسی ہی آ سکتی ہے، جوڈیشل مارشل لاکی کوئی گنجائش نہیں، ہم یہ غلاظت اور گندگی اپنے منہ پر نہیں لگنے دیں گے، اگر ایسا کوئی کام ہوتا ہےتومیں چیف جسٹس رہنے کا حق کھو دوں گا۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس ملک میں صرف اورصرف جمہوریت ہوگی ، قوم سے وعدہ ہےآئین پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں