The news is by your side.

Advertisement

ہم نے اپنے گھرکو ٹھیک نہیں کیا تو اللہ کے سامنے کیاجواب دیں گے،چیف جسٹس

کوئٹہ : چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ انصاف دیناہم پرقرض ہےاورکوئی بھی قرض نہ دےکرجانانہیں چاہتا،ہم نے اپنے گھرکو ٹھیک نہیں کیاتواللہ کےسامنےکیاجواب دیں گے، ایساکام کریں کہ ہمارے آنے والی نسل ہماری اچھی مثال دے۔

تفصیلات کے مطابق کوئٹہ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بےانصافی پرمشتمل معاشرہ نہیں چل سکتا، شدت سے محسوس کررہاہوں ہم صلاحیت استعمال نہیں کررہے، ہم کوئی معمولی قاضی نہیں،قوم کامستقبل ہمیں بھی دیکھناہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ لوگ جوڈیشل نظام کےبنیادی ستون ہیں، حیران ہوں ہمارےقابل ججزکہاں چلےگئے، ہمارے ایسے ججز ہوتے تھے جو فیصلے لکھتے لیکن اس میں کٹنگ نہیں ہوتی تھی، ایک سیشن جج بھی فیصلہ لکھتاتھاتوسپریم کورٹ بھی اسے برقرار رکھتی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہمیں صرف اورصرف قانون کےمطابق فیصلےکرنےہیں، وکلااس عدالتی نظام کی بنیادہیں، ہم وہ قاضی ججزہیں جوصرف اورصرف قانون دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی معاشرےمیں انصاف ہونابہت ضروری ہے مجھےلگ رہاہےہم اس جذبےکےساتھ انصاف نہیں کررہے، انصاف نہیں کریں گے تو اپنے مستقبل کے ذمہ دارخود ہوں گے، انصاف دیناہم پرقرض ہےاورکوئی بھی قرض نہ دے کرجانانہیں چاہتا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم قانون سازی نہیں کرسکتے لیکن قانون پرعمل ضرورکراسکتےہیں، جوقانون بنائے گئے ہیں، ہمیں ان پر ہی عمل کرانا ہے، یہ درست ہے، لوگ30،40سال مقدمہ بازی میں لگے رہتےہیں ، مقدمات کے فیصلے میں تاخیر کی ذمہ داری ہم سب پر ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ جوشخص انصاف کیلئے لڑرہا ہے، فیصلےمیں تاخیرکا ذمہ دارکون ہوگا، جانتےہیں ہمارےوہ وسائل نہیں ہیں، جانتے ہیں حکومت کی جانب سے بھی ویسا تعاون نہیں مل رہا، قانون میں سقم رہ گیا ہے تو اس کی ذمہ داری ہم پرہوتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہےہمیں اپنےگھرکوان ہاؤس لاناہے، اس میں کوئی شک نہیں ہاؤس کوان لانہ لائےگئےلوگ بدزن ہوں گے، ہم نے اپنے گھرکو ٹھیک نہیں کیاتواللہ کےسامنےکیاجواب دینگے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی ایک سول مقدمےمیں 4،4سال کیسےلگتےہیں، مانتاہوں ہمارےپاس انگریزدورکےقانون تبدیل کرنےکاحق نہیں، جوقانون موجود ہیں، ان میں رہتےہوئےبہترین انصاف فراہم کریں۔

انھوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ میری عدلیہ کرپٹ ہے، عدلیہ بھرپوراندازمیں اپناکام کررہی ہے، جس پرفخرہے، جوڈیشل ریفارمزکاآغازیہ ہےکہ ہم نےصرف قانون کودیکھناہے، ایساکام کریں کہ ہمارےآنےوالی نسل ہماری اچھی مثال دے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں